حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 40
اب تفصیل اس کی یہ ہے کہ اشارات نص قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اور آپ کا سلسلہ خلافت حضرت موسیٰ کے سلسلہ خلافت سے بالکل مشابہ ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ کو وعدہ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں یعنی جبکہ سلسلہ اسرائیلی نبوت کا انتہا تک پہونچ جائے گا اور بنی اسرائیل کئی فرقے ہو جائیں گے۔اور ایک دوسرے کی تکذیب کرے گا۔یہاں تک کہ بعض بعض کو کافر کہیں گے تب اللہ تعالیٰ ایک خلیفہ حامی دین موسیٰ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کرے گا اور وہ بنی اسرائیل کی مختلف بھیڑوں کو اپنے پاس اکٹھی کرے گا اور بھیٹر یے اور بکری کو ایک جگہ جمع کر دے گا۔اور سب قوموں کے لئے ایک حکم بن کر اندرونی اختلاف کو درمیان سے اُٹھا دے گا اور بغض اور کینوں کو دور کر دے گا۔یہی وعدہ قرآن میں بھی دیا گیا تھا جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: (۴) اور حدیثوں میں اس کی بہت تفصیل ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ یہ امت بھی اسی قدر فرقے ہو جائیں گے جس قدر کہ یہود کے فرقے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی تکذیب اور تکفیر کرے گا اور یہ سب لوگ عناد اور بغض با ہمی میں ترقی کریں گے۔اس وقت تک کہ مسیح موعود حگم ہو کر دنیا میں آوے اور جب وہ حکم ہو کر آئے گا تو بغض اور شحناء کوڈ ور کر دے گا اور اُس کے زمانہ میں بھیڑیا اور بکری ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔چنانچہ یہ بات تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے۔اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہونچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔اس تفرقہ کے وقت میں اُمت محمدیہ کو ایک حکم کی ضرورت تھی۔سوخدا نے مجھے حکم کر کے بھیجا ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴ ۲۵ تا ۲۵۷ حاشیه ) میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میری حیثیت سُننِ انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی آدمی ما نو پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزا ئیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے جو معنی قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے۔اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی صحیح حدیث ہو گی۔الحکم مورخہ ۷ار نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۲۔ملفوظات جلد اول صفحه ۳۹۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)