حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page v
میں آئے جن کا مقصد خالق اور مخلوق کے رشتہ کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنا تھا وہ تو کسی طرح بھی ایسے مدعی سے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔بعث بعد الموت کا عقیدہ ہر مذہب میں پایا جاتا ہے اور ہر مذہبی آدمی یقین رکھتا ہے کہ اُسے ایک نہ ایک دن موت ضرور آتی ہے۔اور مرنے کے ساتھ ہی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوگا اور پھر اسے اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے مامور کی آواز کا کیا جواب دیا۔اسلام میں تو اس پر خاص زور دیا گیا ہے۔صحیح بخاری میں فتنة القبر کا تفصیلی ذکر ہے۔جب قبر میں منافق سے سوال کیا جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے تو وہ جواب میں کہے گا لا أَدْرِى سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ، یعنی میری ذاتی تحقیق تو کوئی نہیں ہے البتہ لوگوں سے بہت سی باتیں سنی تھیں جو کچھ لوگ سُنی سُنائی کہتے رہے میں بھی کہتا رہا اور یہ جواب ہرگز قابل قبول نہیں ٹھہرایا جائے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ ہر شخص پر یہ واجب قراردیا گیا ہے کہ وہ ایسے مدعی کے دعوای کی بذات خود چھان بین کرے اور پھر دیانتداری سے کسی نتیجہ پر پہنچے عدم مصروفیت کا بہانہ کسی کام نہیں آئے گا۔ہمارے اس زمانہ میں بھی ایک مدعی ماموریت کی صدا پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان سے بلند ہوئی ہے جس نے اعلان کیا:۔میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جوئیں سنا تا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلمی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اس نے وقت پر قبول کرنا تھا اس کو ر ڈ کر دیا۔“ یہ دعوئی اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ خواہ کوئی شخص کیسے ہی خیالات کیوں نہ رکھتا ہود ہر یہ ہو۔یہودی ہو، عیسائی ہو، ہندو ہو یا اور کسی مذہب کا پیر وہو اس دعوای سے آنکھیں بند کر لینے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ اگر یہ دعوی سچا نکلا تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے مواخذہ سے رہائی کیسے ہوگی؟