حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 475
۴۷۵ ہونا ان کا تو اس بات سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک سچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنتِ الہیہ ایک رہبر صادق کی مقتضی تھی۔کیونکہ قانونِ قدیم حضرتِ ربّ العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اور صعوبت اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو رحمت الہی اُس کے دُور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔جیسے جب امساک باراں سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے تو آخر خداوند کریم بارش کر دیتا ہے۔اور جب وہاء سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب کسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریاد رس پیدا ہو جاتا ہے۔پس ایسا ہی جب لوگ خدا کا راستہ بھول جاتے ہیں اور توحید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں تو خدا وند تعالی اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرما کر اور اپنے کلام اور الہام سے مشرف کر کے بنی آدم کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے کہ تا جس قدر بگاڑ ہو گیا ہے اُس کی اصلاح کرے۔اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالم کا ہے اور بقا اور وجود عالم کا اُسی کے سہارے اور آسرے سے ہے کسی اپنی فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بے کار اور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہر یک صفت اس کی اپنے موقعہ پر فی الفور ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔پس جبکہ از روئے تجویز عقلی کے اس بات پر قطع واجب ہوا کہ ہر یک آفت کا غلبہ توڑنے کے لئے خدا تعالیٰ کی وہ صفت جو اُس کے مقابل پر پڑی ہے ظہور کرتی ہے اور یہ بات تواریخ سے اور خود مخالفین کے اقرار سے اور خاص فرقان مجید کے بیان واضح سے ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہو رہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا۔اور نیز یہ بات بھی ہر یک کو معلوم ہے کہ اس فساد موجودہ کے اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلمات شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر تو حید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرت ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں تو ان سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرت خدا کی طرف سے بچے ہادی ہیں۔چنانچہ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں آپ ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔تَاللهِ لَقَدْ اَرسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ - وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ - وَالله اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ