حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 474
۴۷۴ حالت اور بدعملیوں کا خود اقرار ہو جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا ہو میں جانتا ہوں کہ یہ ثبوت بجز اسلام کے کسی کے پاس موجود نہیں۔ظاہر ہے کہ حضرت موسی صرف فرعون کی سرکوبی کے لئے اور اپنی قوم کو چھڑانے کے لئے اور نیز راہ راست دکھلانے کے لئے آئے تھے۔سارے جہان کے فساد یا عدم فساد کی اُن کو کچھ غرض نہیں تھی اور یہ تو سچ ہے کہ فرعون کے ہاتھ سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا دیا مگر شیطان کے ہاتھ سے چھوڑا نہ سکے اور نیز وعدہ کے ملک تک ان کو پہونچا نہ سکے۔اور اُن کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو تزکیۂ نفس نصیب نہیں ہوا اور بار بار نا فرمانیاں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ فوت ہو گئے اور ان کا وہی حال تھا۔اور حضرت مسیح کے حواریوں کی حالت خود انجیل سے ظاہر ہے۔حاجت تصریح نہیں۔اور یہ بات کہ یہودی جن کے لئے حضرت مسیح نبی ہو کر آئے تھے کس قدر ان کی زندگی میں ہدایت پذیر ہو گئے تھے یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ کسی پر پوشیدہ نہیں بلکہ اگر حضرت مسیح کی نبوت کو اس معیار سے جانچا جائے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی نبوت اس معیار کی رُو سے کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتی۔( نور القرآن نمبر ا۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۵۸ تا ۳۶۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی اور تمام لوگوں نے اصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراط مستقیم کو بھول بھلا کر ہر یک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔عرب میں بُت پرستی کا نہایت زور تھا۔فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا۔ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور صد با طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی۔اور اُنہی دنوں میں کئی پوران اور پستک کہ جن کے رُو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی تصنیف ہو چکی تھی۔اور بقول پادری بورٹ صاحب اور کئی فاضل انگریزوں کے اُن دنوں عیسائی مذہب سے زیادہ اور کوئی مذہب خراب نہ تھا اور پادری لوگوں کی بد چلنی اور بداعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا۔پس آنحضرت کا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو تو حید اور اعمال صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو ام الشرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرت خدا کے سچے رسول اور سب رسولوں سے افضل تھے۔سچا ے سہو کتابت ہے صحیح پورٹ ( جان ڈیون پورٹ (JOHN DAVENPORT) ہے۔ناشر