حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 472

۴۷۲ ہے۔استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلل اور کمزوری کا اقرار اور مددطلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے۔چونکہ اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ جس کام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے وہ پورا ہو گیا۔یعنی یہ کہ ہزار ہا لوگوں نے دین اسلام قبول کر لیا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف بھی اشارہ ہے چنانچہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک برس کے اندر فوت ہو گئے۔پس ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول سے جیسا کہ خوش ہوئے تھے غمگین بھی ہوں کیونکہ باغ تو لگایا گیا مگر ہمیشہ کی آب پاشی کا کیا انتظام ہوا؟ سوخدا تعالیٰ نے اسی غم کے دور کرنے کے لئے استغفار کا حکم دیا کیونکہ لغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے اسی وجہ سے مغفر جو خود کے معنے رکھتا ہے اسی میں سے نکالا گیا ہے۔اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اُس بکا یا اُس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے۔سو اس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا گیا کہ اس دین کے لئے غم مت کھا۔خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے گا اور ان بلاؤں کو روک دے گا جو کسی ضعف کے وقت عائد حال ہو سکتی ہیں۔( نور القرآن نمبر ا۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۳ تا ۳۵۶) پھر ہم اپنے پہلے مقصد کی طرف عود کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت پر اس دلیل سے نہایت اعلیٰ و اجلی ثبوت پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب علیہ الصلوۃ والسلام ایسے وقت میں دنیا میں بھیجے گئے کہ جب دنیا زبانِ حال سے ایک عظیم الشان مصلح کو مانگ رہی تھی۔اور پھر نہ مرے اور نہ مارے گئے جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کر دیا۔جب نبوت کے ساتھ ظہور فرما ہوئے تو آتے ہی اپنی ضرورت دنیا پر ثابت کر دی۔اور ہر ایک قوم کو اُن کے شرک اور ناراستی اور مفسدانہ حرکات پر ملزم کیا۔جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا ہوا ہے مثلاً اسی آیت کو سوچ کر دیکھو جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تبرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا یعنی وہ بہت ہی برکت والا ہے جس نے قرآن کو اپنے بندہ پر اس غرض سے اتارا جو تمام جہانوں کو ڈرانے والا ہو۔یعنی تا اُن کی بدرا ہی اور بد عقیدگی پر اُن کو متنبہ کرے۔پس یہ آیت بصراحت اس بات الفرقان :٢