حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 471

اب سوچ کر دیکھو کہ یہ دلیل جو تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے یہ ہم نے اپنے ذہن سے ایجاد نہیں کی بلکہ قرآن شریف آپ ہی اس کو پیش کرتا ہے۔اور دلیل کے دونوں حصے بیان کر کے پھر آپ ہی فرماتا ب قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ لا یعنی اس رسول اور اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر یہ بھی ایک نشان ہے جس کو ہم نے بیان کر دیا تا تم سوچو اور سمجھو اور حقیقت تک پہونچ جاؤ۔دوسرا پہلو اس دلیل کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں دنیا سے اپنے مولیٰ کی طرف بلائے گئے جب کہ وہ اپنے کام کو پورے طور پر انجام دے چکے۔اور یہ امر قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ہے یعنی آج میں نے قرآن شریف کے اُتار نے اور تکمیل نفوس سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کر لیا۔حاصل مطلب یہ ہے کہ جس قدر قرآن مجید نازل ہونا تھا نازل ہو چکا اور مستعد دلوں میں نہایت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کر چکا اور تربیت کو کمال تک پہونچا دیا اور اپنی نعمت کو اُن پر پورا کر دیا۔اور یہی دور کن ضروری ہیں جو ایک نبی کے آنے کی علت غائی ہوتے ہیں۔اب دیکھو یہ آیت کس زور شور سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اس دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک کہ دین اسلام کو تنزیل قرآن اور تکمیل نفوس سے کامل نہ کیا گیا۔اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ ہونے کی ہے جو کاذب کو ہر گز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی صادق نبی نے بھی اس اعلیٰ شان کے کمال کا نمونہ نہیں دکھلایا کہ ایک طرف کتاب اللہ بھی آرام اور امن کے ساتھ پوری ہو جائے اور دوسری طرف تکمیل نفوس بھی ہو۔اور بایں ہمہ کفر کو ہر یک پہلو سے شکست اور اسلام کو ہریک پہلو سے فتح ہو۔اور پھر دوسری جگہ فرمایا اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ۔فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا یعنی جبکہ آنے والی مدد اور فتح آگئی جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور تو نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔پس خدا کی حمد اور تسبیح کر یعنی یہ کہہ کہ یہ جو ہوا وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس کے فضل اور کرم اور تائید سے ہے اور الوداعی استغفار کر کیونکر وہ رحمت کے ساتھ بہت ہی رجوع کرنے والا الحديد : ۱۸ المآئدة : ۴ النصر : ۲ تا ۴