حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 470
تھے لیکن قرآن کے زمانہ میں علاوہ فسق اور فجور کے عقائد میں بھی فتور ہو گیا تھا۔ہزار ہا لوگ دہر یہ تھے۔ہزار ہاوحی اور الہام سے منکر تھے۔اور ہر قسم کی بدکاریاں زمین پر پھیل گئی تھیں۔اور دنیا میں اعتقادی اور عملی خرابیوں کا ایک سخت طوفان برپا تھا۔ماسوا اس کے مسیح نے اپنی چھوٹی سی قوم یہودیوں کی بد چلنی کا کچھ ذکر تو کیا جس سے البتہ یہ خیال پیدا ہوا کہ اُس وقت یہود کی ایک خاص قوم کو ایک مصلح کی ضرورت تھی۔مگر جس دلیل کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فساد عام کے وقت میں آنا اور کامل اصلاح کے بعد واپس بلائے جانا اور ان دونوں پہلوؤں کا قرآن شریف کا آپ پیش کرنا اور آپ دنیا کو اس کی طرف توجہ دلانا یہ ایک ایسا امر ہے کہ انجیل تو کیا بجز قرآن شریف کسی پہلی کتاب میں بھی نہیں پایا جاتا۔قرآن شریف نے آپ یہ دلائل پیش کئے ہیں اور آپ فرما دیا ہے کہ اس کی سچائی ان دونوں پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتی ہے یعنی ایک تو وہی جو ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسے زمانہ میں ظہور فرمایا جبکہ زمانہ میں عام طور طرح طرح کی بدکاریاں، بد اعتقادیاں پھیل گئی تھیں اور دنیا حق اور حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے بہت دُور جا پڑی تھی اور قرآن شریف کے اس قول کی اس وقت تصدیق ہوتی ہے جبکہ ہر یک قوم کی تاریخ اس زمانہ کے متعلق پڑھی جائے کیونکہ ہر یک قوم کے اقرار سے یہ عام شہادت پیدا ہوتی ہے کہ در حقیقت وہ ایسا پُر ظلمت زمانہ تھا کہ ہر ایک قوم مخلوق پرستی کی طرف جھک گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ جب قرآن نے تمام قوموں کو گمراہ اور بد کار قرار دیا تو کوئی اپنا بری ہونا ثابت نہ کر سکا۔دیکھو اللہ تعالیٰ کے زور سے اہل کتاب کی بدیوں اور تمام دنیا کے مرجانے کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْآمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَسِقُوْنَ اِعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الايتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (سورۃ الحدید جز و ۲۷ رکوع ۱۷) یعنی مومنوں کو چاہئے کہ اہل کتاب کی چال و چلن سے پر ہیز کریں۔اُن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔پس اُن پر ایک زمانہ گذر گیا سوان کے دل سخت ہو گئے۔اور اکثر اُن میں سے فاسق اور بدکار ہی ہیں۔یہ بات بھی جانو کہ زمین مرگئی تھی اور اب خدا نئے سرے سے زمین کو زندہ کر رہا ہے۔یہ قرآن کی ضرورت اور سچائی کے نشان ہیں جو اس لئے بیان کئے گئے تاکہ تم نشانوں کو دریافت کرلو۔الحديد : ۱۸،۱۷