حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 469

۴۶۹ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ یعنی تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہونچ چکے تھے۔اور عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی متنبہ کیا کہ تم نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا اور تم ہر یک شرارت اور بدکاری میں تمام قوموں کے پیشرو ہو اور بت پرستوں کو بھی جابجا ملزم کیا کہ تم پتھروں اور انسانوں اور ستاروں اور عناصر کی پرستش کرتے ہو اور خالق حقیقی کو بھول گئے ہو۔اور تم یتیموں کا مال کھاتے اور بچوں کو قتل کرتے اور شرکاء پر ظلم کرتے ہو۔اور ہر ایک بات میں حد اعتدال سے گذر گئے ہو۔اور فرمایا اِعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی یہ بات تمہیں معلوم ہے کہ زمین سب کی سب مر گئی تھی اب خدا نئے سرے اُس کو زندہ کرتا ہے۔غرض تمام دنیا کو قرآن نے شرک اور فسق اور بت پرستی کے الزام سے ملزم کیا جو ام الخبائث ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو دنیا کی تمام بدکاریوں کی جڑ ٹھہرایا اور ہر یک قسم کی بدکاریاں اُن کی بیان کر دیں۔اور ایک ایسا نقشہ کھینچ کر زمانہ موجودہ کا اعمال نامہ دکھلا دیا کہ جب سے دنیا کی بناء پڑی ہے بجز نوح کے زمانہ کے اور کوئی زمانہ اس زمانہ سے مشابہ نظر نہیں آتا۔اور ہم نے اس جگہ جس قدر آیات لکھ دی ہیں وہ اتمام حجت کے لئے اول درجہ پر کام دیتی ہیں۔لہذا ہم نے طول کے خوف سے تمام آیات کو نہیں لکھا۔ناظرین کو چاہئے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کس شد ومد اور کس قدر مؤثر کلام سے جا بجا قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ تمام دنیا بگڑ گئی ، تمام زمین مرگئی اور لوگ دوزخ کے گڑھے کے قریب پہونچ گئے اور کیسے بار بار کہتا ہے کہ تمام دنیا کو ڈرا کہ وہ خطرناک حالت میں پڑی ہیں۔یقیناً قرآن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرک اور فسق اور بت پرستی اور طرح طرح کے گناہوں میں سڑگئی اور بدکاریوں کے عمیق کنوئیں میں ڈوب گئی ہیں۔یہ بات سچ ہے کہ انجیل میں بھی کسی قدر یہودیوں کی بدچلنیوں کا ذکر ہے لیکن مسیح نے کہیں یہ ذکر تو نہیں کیا کہ جس قدر دنیا کے صفحہ میں لوگ موجود ہیں جن کو عالمین کے نام سے نامزد کر سکتے ہیں وہ بگڑ گئے مر گئے اور دنیا شرک اور بدکاریوں سے بھر گئی اور نہ رسالت کا عام دعویٰ کیا۔پس ظاہر ہے کہ یہودی ایک تھوڑی سی قوم تھی جو مسیح کے مخاطب تھی بلکہ وہی تھی جو مسیح کی نظر کے سامنے اور چند دیہات کے باشندے تھے۔لیکن قرآن کریم نے تو تمام زمین کے مرجانے کا ذکر کیا ہے۔اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مرگئی۔یہودی تو نبیوں کی اولاد اور تورات کو اپنے اقرار سے مانتے تھے گو عمل سے قاصر ال عمران ۱۰۴ الحديد : ١٨