حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 468

۴۶۸ دلیل ٹھہراتی ہے کہ اُن کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہو جبکہ زمانہ تاریکی میں پڑا ہوا اور لوگوں نے توحید کی جگہ شرک اور پاکیزگی کی جگہ فسق اور انصاف کی جگہ ظلم اور علم کی جگہ جہل اختیار کر لیا ہو اور ایک مصلح کی اشد حاجت ہو۔اور پھر ایسے وقت میں وہ رسول دنیا سے رخصت ہو جبکہ وہ اصلاح کا کام عمدہ طور سے کر چکا ہو۔اور جب تک اس نے اصلاح نہ کی ہو دشمنوں سے محفوظ رکھا گیا ہو۔اور نوکروں کی طرح حکم سے آیا ہو اور حکم سے واپس گیا ہو۔غرضیکہ وہ ایسے وقت ظاہر ہو جبکہ وہ وقت بزبانِ حال پکار پکار کہہ رہا ہو کہ ایک آسمانی مصلح اور کتاب کا آنا ضروری ہے۔اور پھر ایسے وقت میں الہامی پیشگوئی کے ذریعہ سے واپس بلایا جاوے کہ جب اصلاح کے پودا کو مستحکم کر چکا ہو اور ایک عظیم الشان انقلاب ظہور میں آچکا ہو۔اب ہم اس بات کو بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ دلیل جس طرح قرآن اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہایت روشن چہرہ کے ساتھ جلوہ نما ہوئی ہے کسی اور نبی اور کتاب کے حق میں ہرگز ظاہر نہیں ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی تھا کہ میں تمام قوموں کے لئے آیا ہوں۔سوقرآن شریف نے تمام قوموں کو ملزم کیا ہے کہ وہ طرح طرح کے شرک اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرا۔یعنی ہم نے تجھے بھیجا تا کہ تو دنیا کی تمام قوموں کو ڈراوے یعنی ان کو متنبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی بدکاریوں اور عقیدوں کی وجہ سے سخت گنہ گارٹھہری ہیں۔یادر ہے کہ جو اس آیت میں نذیر کا لفظ دنیا کے تمام فرقوں کے مقابل پر استعمال کیا گیا ہے جس کے معنے گنہگاروں اور بدکاروں کو ڈرانا ہے۔اسی لفظ سے یقینی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کا یہ دعوی تھا کہ تمام دنیا بگڑ گئی اور ہر ایک نے سچائی اور نیک بختی کا طریق چھوڑ دیا کیونکہ انذار کا محل فاسق اور مشرک اور بدکار ہی ہیں اور انذار اور ڈرانا مجرموں کی ہی تنبیہ کے لئے ہوتا ہے نہ نیک بختوں کے لئے۔اس بات کو ہر یک جانتا ہے کہ ہمیشہ سرکشوں اور بے ایمانوں کو ہی ڈرایا جاتا ہے اور سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ نبی نیکوں کے لئے بشیر ہوتے ہیں اور بدوں کے لئے نذیر۔پھر جبکہ ایک نبی تمام دنیا کے لئے نذیر ہوا تو ماننا پڑا کہ تمام دنیا کو نبی کی وحی نے بداعمالیوں میں مبتلا قرار دیا ہے اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ نہ توریت نے موسی کی نسبت کیا اور نہ انجیل نے عیسی کے زمانہ کی نسبت بلکہ صرف قرآن شریف نے کیا اور پھر فرمایا کہ ۴۲: الروم :٤٢ الفرقان :٢