حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 465
۴۶۵ احاطہ علوم ربانیہ میں، بیان دلائل دینیہ میں مقابلہ نہیں کر سکے گا۔سو دیکھو کسی سے مقابلہ نہیں ہو سکا اور اگر کوئی اس سے منکر ہے تو اب کر کے دکھلا دے۔اور جو کچھ ہم نے اس کتاب میں جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اشتہار بھی شامل ہے حقائق و دقائق و عجائبات قرآن شریف کے کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں لکھے ہیں کسی دوسری کتاب میں سے پیش کرے۔اور جب تک پیش نہ کرے تب تک صریح حجت خدا کی اُس پر وارد ہے۔اور خدا نے کہا تھا کہ میں ارضِ شام کو عیسائیوں کے قبضہ میں سے نکال کر مسلمانوں کو اس زمین کا وارث کروں گا۔سو دیکھو اب تک مسلمان ہی اس زمین کے وارث ہیں اور یہ سب خبریں ایسی ہیں کہ جن کے ساتھ اقتدار اور قدرت الوہیت شامل ہے۔یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی ہی خبریں ہوں کہ زلزلے آویں گے۔قحط پڑیں گے۔قوم پر قوم چڑھائی کرے گی۔وباء پھیلیں گی۔مری پڑے گی وغیرہ وغیرہ اور بہ تبعیت خدا کے کلام کی اور اُسی کی تاثیر اور برکت سے وہ لوگ کہ جو قرآن شریف کا اتباع اختیار کرتے ہیں اور خدا کے رسول مقبول پر صدق دلی سے ایمان لاتے ہیں اور اُس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کو تمام مخلوقات اور تمام نبیوں اور تمام رسولوں اور تمام مقدسوں اور تمام اُن چیزوں سے جو ظہور پذیر ہوئیں یا آئندہ ہوں بہتر اور پاک تر اور کامل تر اور افضل اور اعلیٰ سمجھتے ہیں وہ بھی اُن نعمتوں سے اب تک حصہ پاتے ہیں اور جو شربت موسی اور مسیح کو پلایا گیا۔وہی شربت نہایت کثرت سے نہایت لطافت سے نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔اسرائیلی نور اُن میں روشن ہیں۔بنی یعقوب کے پیغمبروں کی اُن میں برکتیں ہیں سبحان اللہ ! ثم سبحان اللہ ! حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں۔اللہ اللہ ! کیا عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ امت جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى نَبِيِّكَ وَحَبِيْبِكَ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَ اَفْضَلِ الرُّسُلِ وَ خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَ بَارِک وَسَلَّم - اس زمانہ کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریہ اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں۔وہ آسمانی نور کدھر ہیں جن میں امت مرحومہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح اور موسیٰ کی برکتوں میں شریک ہے اور اُن نوروں کی وارث ہے جن سے اور تمام قو میں اور تمام اہل مذاہب محروم اور بے نصیب ہیں۔اس وسوسہ کے دُور کرنے کے لئے بارہا ہم نے اسی حاشیے میں لکھ دیا ہے کہ طالب حق کے لئے کہ جو اسلام کے فضائل خاصہ دیکھ کر فی الفور مسلمان ہونے پر مستعد ہے اس