حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 464 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 464

۴۶۴ کے کامل اتباع سے ظاہر ہوتے ہیں جو تیرہ سو برس پہلے ظاہر ہوتے تھے۔چنانچہ صد ہانشان اس وقت تک ظاہر ہو چکے ہیں اور ہر قوم اور مذہب کے سرگروہوں کو ہم نے دعوت کی ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں آ کر اپنی صداقت کا نشان دکھا ئیں مگر ایک بھی ایسا نہیں کہ جن سے اپنے مذہب کی سچائی کا کوئی نمونہ عملی طور پر دکھائے۔الحکم، مورخه ۲۳ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ نمبر۲ کالم نمبر ۲۰۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۷، ۲۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) جس قدر خداوند قادر مطلق نے تمام دنیا کے مقابلہ پر تمام مخالفوں کے مقابلہ پر تمام دشمنوں کے مقابلہ پر تمام منکروں کے مقابلہ پر تمام دولتمندوں کے مقابلہ پر تمام زور آوروں کے مقابلہ پر تمام بادشاہوں کے مقابلہ پر تمام حکیموں کے مقابلہ پر تمام فلاسفروں کے مقابلہ پر تمام اہل مذہب کے مقابلہ پر ایک عاجز نا تو ان بے زر بے زور ایک اُمی نا خوان بے علم بے تربیت کو اپنی خداوندی کے کامل جلال سے کامیابی کے وعدے دیتے ہیں کیا کوئی ایمانداروں اور حق کے طالبوں میں سے شک کر سکتا ہے کہ یہ تمام مواعید کہ جو اپنے وقتوں پر پورے ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں یہ کسی انسان کا کام ہے۔دیکھو ایک غریب اور تنہا اور مسکین نے اپنے دین کے پھیلنے کے اور اپنے مذہب کی جڑ پکڑنے کی اُس وقت خبر دی کہ جب اُس کے پاس بجز چند بے سامان درویشوں کے اور کچھ نہ تھا۔اور تمام مسلمان صرف اس قدر تھے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں سما سکتے تھے اور انگلیوں پر نام بنام گنے جا سکتے جن کو گانڈ کے چند آدمی ہلاک کر سکتے تھے جن کا مقابلہ اُن لوگوں سے پڑا تھا کہ جو دنیا کے بادشاہ اور حکمران تھے اور جن کو ان قوموں کے ساتھ سامنا پیش آیا تھا کہ جو باوجود کروڑوں مخلوقات ہونے کے ان کے ہلاک کرنے اور نیست و نابود کرنے پر متفق تھے۔مگر اب دنیا کے کناروں تک نظر ڈال کے دیکھو کہ کیونکر خدا نے انہیں نا تو ان اور قدرقلیل لوگوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔اور کیونکر اُن کو طاقت اور دولت اور بادشاہت بخش دی اور کیونکر ہزار ہا سال کی تخت نشینیوں کے تاج اور تخت اُن کے سپرد کئے گئے۔ایک دن وہ تھا کہ وہ جماعت اتنی بھی نہیں تھی کہ جس قدر ایک گھر کے آدمی ہوتے ہیں اور اب وہی لوگ کئی کروڑ دنیا میں نظر آتے ہیں۔خداوند نے کہا تھا کہ میں اپنے کلام کی آپ حفاظت کروں گا۔اب دیکھو کیا یہ سچ ہے یا نہیں کہ و ہی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ اُس کی کلام کے پہنچائی تھی وہ برابر اس کی کلام میں محفوظ چلی آتی ہے اور لاکھوں قرآن شریف کے حافظ ہیں کہ جو قدیم سے چلے آتے ہیں۔خدا نے کہا تھا کہ میری کتاب کا کوئی شخص حکمت میں، معرفت میں، بلاغت میں فصاحت میں،