حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 463
۴۶۳ کرنے والے تھے آپ کے قدموں پر ادنی غلاموں کی طرح گھرے رہے ہیں۔اور اس وقت کے اسلامی بادشاہ بھی ذلیل چاکروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے اتر آتے ہیں۔اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ عزت کیا یہ شوکت کیا یہ اقبال کیا یہ جلال کیا یہ ہزاروں نشان آسمانی کیا یہ ہزاروں برکات ربانی جھوٹے کو بھی مل سکتے ہیں؟ ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی علیہ السلام کا ہم نے دامن پکڑا ہے خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے۔وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے۔اُس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے۔اگر اسلام نہ ہوتا تو اس زمانہ میں اس بات کا سمجھنا محال تھا کہ نبوت کیا چیز ہے؟ اور کیا معجزات بھی ممکنات میں سے ہیں؟ اور کیا وہ قانون قدرت میں داخل ہیں؟ اس عقدے کو اُسی نبی کے دائگی فیض نے حل کیا اور اُسی کے طفیل سے اب ہم دوسری قوموں کی طرح صرف قصہ گو نہیں ہیں بلکہ خدا کا نور اور خدا کی آسمانی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔ہم کیا چیز ہیں جو اس شکر کو ادا کر سکیں کہ وہ خدا جو دوسروں پر مخفی ہے اور وہ پوشیدہ طاقت جو دوسروں سے نہاں در نہاں ہے وہ ذوالجلال خدا محض اس نبی کریم کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر ہو گیا۔مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۱،۳۸۰) جس قدر معجزات کل نبیوں سے صادر ہوئے اُن کے ساتھ ہی اُن معجزات کا بھی خاتمہ ہو گیا مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ایسے ہیں کہ وہ ہر زمانہ میں اور ہر وقت تازہ بتازہ اور زندہ موجود ہیں۔ان معجزات کا زندہ ہونا اور ان پر موت کا ہاتھ نہ چلنا صاف طور پر اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی زندہ نبی ہیں اور حقیقی زندگی یہی ہے جو آپ کو عطا ہوئی اور کسی دوسرے کو نہیں ملی۔آپ کی تعلیم اس لئے زندہ تعلیم ہے کہ اُس کے ثمرات اور برکات اس وقت بھی ویسے ہی موجود ہیں جو آج سے تیرہ سو سال پیشتر موجود تھے۔دوسری کوئی تعلیم ہمارے سامنے اس وقت ایسی نہیں ہے جس پر عمل کرنے والا یہ دعوی کر سکے کہ اس کے ثمرات اور برکات اور فیوض سے مجھے حصہ دیا گیا ہے اور میں ایک آیت اللہ ہو گیا ہوں۔لیکن ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم ، قرآن شریف کی تعلیم کے ثمرات اور برکات کا نمونہ اب بھی موجود پاتے ہیں اور ان تمام آثار اور فیوض کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع سے ملتے ہیں اب بھی پاتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کی سچائی پر زندہ گواہ ہو اور ثابت کرے کہ وہ برکات اور آثار اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم