حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 451
۴۵۱ جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقادر کھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر بے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا۔اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما فاوى - وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنى ا یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بے کس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو صال (یعنی عاشق وجه الله ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پا یا پس غنی کر دیا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۱،۱۷۰) حضرت موسیٰ بردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبۂ عالیہ تک پہنچ سکے توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسیٰ رفق اور علم اور اخلاق فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے۔جیسا کہ گفتی باب دوازدهم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو روئے زمین پر تھے زیادہ بردبار تھا۔سوخدا نے توریت میں موسیٰ کی بُردباری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے۔ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ تو خلق عظیم پر ہے۔اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اُس چیز کی انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہو گا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول وعرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کا ملہ نامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا :- وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا کے یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب ۴۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی الضحى : ۷ تا ۹ القلم : ۵ ۳ النساء : ۱۱۴