حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 448
۴۴۸ دُنیا میں لائے تھے اسی کو ہمیشہ تک رہنے والے مانے اور اُس میں ایک ذرہ بھر اور ایک شعشہ بھی نہ بدلے اور اس کی اتباع میں فنا ہو کر اپنا آپ کھو دے اور اپنے وجود کا ہر ذرہ اسی راہ میں لگائے۔عملاً اور علماً اس کی شریعت کی مخالفت نہ کرے۔تب پکا مسلمان ہوتا ہے۔(الحکم ۶ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۵ کالم۲) اکثر نادان عیسائی مغفرت کی کچی حقیقت نہ دریافت کرنے کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو شخص مغفرت مانگے وہ فاسق اور گنہگار ہوتا ہے مگر مغفرت کے لفظ پر خوب غور کرنے کے بعد صاف طور پر سمجھ آجاتا ہے کہ فاسق اور بد کا روہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مغفرت نہیں مانگتا کیونکہ جبکہ ہر یک سچی پاکیزگی اُسی کی طرف سے ملتی ہے اور وہی نفسانی جذبات کے طوفان سے محفوظ اور معصوم رکھتا ہے۔تو پھر خدا تعالیٰ کے راستباز بندوں کا ہر یک طرفه العین میں یہی کام ہونا چاہئے کہ وہ اس حافظ اور عاصم حقیقی سے مغفرت مانگا کریں۔اگر ہم جسمانی عالم میں مغفرت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ مغفرت اس مضبوط اور نا قابل بند کی طرح ہے جو ایک طوفان اور سیلاب کے روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔پس چونکہ تمام زور تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے لئے مسلم ہیں اور انسان جیسا کہ جسم کے رو سے کمزور ہے۔رُوح کے رُو سے بھی نا تواں ہے اور اپنے شجرہ پیدائش کے لئے ہر یک وقت اس لازوال ہستی سے آبپاشی چاہتا ہے جس کے فیض کے بغیر یہ جی ہی نہیں سکتا اس لئے استغفار مذکورہ معانی کے رُو سے اس کے لازم حال پڑا ہے اور جیسا کہ چاروں طرف درخت اپنی ٹہنیاں چھوڑتا ہے گویا اردگرد کے چشمہ کی طرف اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے کہ اے چشمہ میری مدد کر اور میری سرسبزی میں کمی نہ ہونے دے اور میرے پھلوں کا وقت ضائع ہونے سے بچا۔یہی حال راستبازوں کا ہے روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے۔قرآن شریف کو سوچو اور غور سے پڑھو استغفار کی اعلیٰ حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لغت کے رُو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عنصر ہے یعنی اُن کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل پانی نہ ملے تو اُس کی کیا شکل نکل آئے گی۔کیا یہ سچ نہیں کہ اُس کی خوبصورتی بالکل دور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام ونشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل