حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 447
۴۴۷ مہر نبوت محمدی نہ ہو۔ہمارے مخالف الرائے مسلمانوں نے یہی غلطی کھائی ہے کہ وہ ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر اسرائیلی نبی کو آسمان سے اُتارتے ہیں۔اور میں یہ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور آپ کی ابدی نبوت کا یہ ادنی کرشمہ ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی آپ ہی کی تربیت اور تعلیم سے مسیح موعود آپ کی امت میں وہی مہر نبوت لے کر آتا ہے۔اگر یہ عقیدہ کفر ہے تو پھر میں اس کفر کو عزیز رکھتا ہوں لیکن یہ لوگ جن کی عقلیں تاریک ہو گئی ہیں جن کو نور نبوت سے حصہ نہیں دیا گیا اس کو سمجھ نہیں سکتے۔اور اس کو کفر قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ وہ بات ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اور آپ کی زندگی کا ثبوت ہوتا ہے۔(الحکم ۱۰ جون ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم۲) تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمد یہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں۔نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے۔لیکن یہ نبوت محمد یہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔مگر اس کا کامل پیر وصرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ نامہ محمد یہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آ سکتے ہیں۔کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے۔( الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱) ہم تو کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعوی کرے یا قرآن اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تغیر و تبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے۔ہمارے نزدیک تو مومن وہی ہے جو قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور قرآن شریف ہی کو خاتم الکتب یقین کرے اور اسی شریعت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم