حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 446
سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجر بہ ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۶ حاشیہ) جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان اُس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اُس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حالت پر چھوڑ نا نہیں چاہا اور اُن پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑ ہے۔بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص اُمتی نہ ہو اُس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔سو خدا نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا۔لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص کچی پیروی سے اپنا اُمتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہوسکتا ہے۔کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے۔مگر ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفت الہیہ جو مدار نجات ہے مفقود نہ ہو جائے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰،۲۹) میں بڑے یقین اور دعوی سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالات نبوت ختم ہو گئے وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اور آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا اور چشمہ نبوت کو چھوڑتا ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختم نبوت کو توڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا جس کے پاس وہی