حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 445
۴۴۵ جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں۔جیسے عقل، ذکا، سرعت فہم ، صفائی ذہن ، حسن تحفظ، حسن تذکر ، عفت، حیا، صبر، قناعت، زہد، تورع، جوانمردی، استقلال، عدل، امانت، صدق لہجہ، سخاوت فی محله ، ایثار فی محله ، کرم فی محله ، مروّت فی محلہ ، شجاعت فی محلہ ، علو ہمت فی محلہ حلم في محله تحمل في محلہ ، حمیت فی محله تواضع في محلہ ، ادب في محله ، شفقت في محله، رأفت في محله رحمت فی محلہ ، خوف الہی ، محبت الہیہ، انس بالله ، انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ ) اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (یعنی عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خود بخود روشن ہونے پر مستعد تھے ) نُورٌ عَلَى نُورٍ نور فائض ہوا نور پر یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے۔سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اُس نور کے وارد ہونے سے وجو د باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۹۱ تا ۱۹۵ حاشیہ نمبر ۱۱) معراج انقطاع تام تھا اور سر اس میں یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطہ نفسی کو ظاہر کیا جاوے۔آسمان پر ہر ایک روح کے لئے ایک نقطہ ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز و مکرم نہیں ہے۔الحکم مورخہ ۷ار فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ے کالم نمبر ۲۔ملفوظات جلد ا صفحه ۳۹۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے۔سو در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے میں اس کا نام خواب ہر گز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری