حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 444
۴۴۴ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی سو قرآن شریف بھی اسی طر ز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت ونرمی و درشتی ہے۔سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی یعنی طینت معتدلہ محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے۔جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے۔اور اخلاق معتدلہ فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو معیت عقل لطیف روغن ظہور روشنی و حی قرار پائی اُن کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ يا نمبر ۲۹ یعنی تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا مستم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول وعرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ ادراک سے باہر ہو۔اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازه روی اور حسنِ اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت ( جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے۔بلکہ خلق بفتح خا اور خُلق بضم خا د ولفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت وَاهِبُ الصُّوَر کی طرف سے عطا ہوئی جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں۔جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں ان سب کا نام خلق ہے۔اور چونکہ شجرۂ فطرت انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قومی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے۔منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقویم کے نمبر ۳۰۔اس لئے خُلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا القلم : ۵ التين : ۵