حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 35

۳۵ معاملہ ہوتا ہے یا خارق عادت طور پر اس مصیبت سے رہائی دی جاتی ہے اور یا ایک ایسا صبر جمیل عطا کیا جاتا ہے جس میں لذت اور سرور اور ذوق ہو۔(۱۰) ان کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے جو تکبر اور نخوت اور کمینگی اور خود پسندی اور ریا کاری اور حسد اور بخل اور تنگ دلی سب دور کی جاتی ہے اور انشراح صدر اور بشاشت عطا کی جاتی ہے۔(11) ان کی تو کل نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور اس کے ثمرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔(۱۲) ان کو ان اعمال صالحہ کے بجالانے کی قوت دی جاتی ہے جو دوسرے اُن میں کمزور ہوتے ہیں۔(۱۳) ان میں ہمدردی خلق اللہ کا مادہ بہت بڑھایا جاتا ہے اور بغیر توقع کسی اجر اور بغیر خیال کسی ثواب کے انتہائی درجہ کا جوش اُن میں خلق اللہ کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے۔اور خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس قدر جوش کس غرض سے ہے کیونکہ یہ امر فطرتی ہوتا ہے۔(۱۴) خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کا تعلق ہوتا ہے اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی اُن کے اندر ہوتی ہے۔اور اُن کی رُوح کو خدائے تعالی کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکا۔اس لئے حضرت احدیت میں اُن کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جس کو خلقت نہیں پہچانتی۔وہ چیز جو خاص طور پر اُن میں زیادہ ہے اور جو سر چشمہ تمام برکات کا ہے اور جس کی وجہ سے یہ ڈوبتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں اور موت تک پہنچ کر پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ذلتیں اوٹھا کر پھر تاج عزت دکھا دیتے ہیں اور مہجور اور اکیلے ہو کر پھر نا گہاں ایک جماعت کے ساتھ نظر آتے ہیں وہ یہی راز وفاداری ہے جس کے رشتہ محکم کو نہ تلواریں قطع کر سکتی ہیں اور نہ دنیا کا کوئی بلوہ اور خوف اور مفسدہ اس کو ڈھیلا کر سکتا ہے۔اَلسَّلَامُ عَلَيْهِمْ مِّنَ اللَّهِ وَ مَلَائِكَتِهِ وَ مِنَ الصُّلَحَاءِ أَجْمَعِين - (۱۵) پندرھویں علامت اُن کی علم قرآن کریم ہے۔قرآن کریم کے معارف اور حقائق ولطائف جس قدر ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہرگز نہیں دیئے جاتے۔یہ لوگ وہی مطهرون ہیں جن کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (۱۶) ان کی تقریر و تحریر میں اللہ جلشانہ ایک تاثیر رکھ دیتا ہے جو علماء ظاہری کی تحریروں و تقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے۔اور بشرطیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔الواقعة :