حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 439
۴۳۹ آنحضرت کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے جو ان کے لئے بجائے اب ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل وا تم ہونا وہ بھی درحقیقت اسی بنا پر ہے۔کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل۔اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوظلتی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئی ہیں اُن میں سے ایک یہی آیت ہے جو اللہ تعالی فرماتا ہے۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی یے یعنی وہ (حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے۔سو جبکہ نفس پاک محمد مکی اپنے شدت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس نا پیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت گم ہو گیا اور یہ بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہرا دیں۔پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہہ نہایت اصفی اور اجلی طور پر دی گئی ہے یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یعنی جولوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے۔سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔یہ کلمہ مقام جمع میں ہے۔جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبت تامہ دوطرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللهَ رَمی سے تو نے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جبکہ تو نے چلایا۔ایسا ہی یہ اشارہ اس دوسری آیت میں پایا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سے یعنی ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف النجم :١٠٩ الفتح : الانفال :۱۸ الزمر :۵۴