حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 438
۴۳۸ طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہوسکتا ہے۔اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا منبع واصل ہے اور درحقیقت اسی ایک نقطہ سے خط وتر انبساط وامتداد پذیر ہوا ہے۔اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہویت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعیین بخش ہو گیا ہے عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔اس کا اوّل و اعلیٰ مظہر جس سے وہ عَلَى وَجُهِ التَّفْصِيل صدور پذیر ہوا ہے یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبی ومحمد مصطفے نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اوّل کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔اور اس نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الہیہ کی طرف نسبت واقعہ ہے۔غرض سر چشمہ رموز غیبی و مفتاح کنوز لاریبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء و معاد کی علت غائی اور ہر یک زیر و بالا کی پیدائش کی کمیت یہی ہے جس کے تصور بالکنه و تصور بکنه سے تمام عقول وافهام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہر یک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہر یک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہریک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے۔ایسا ہی نقطہ محمد یہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں بِاِذْنِهِ تعالى حسب استعدادات مختلفه و طبائع متفاوتہ مؤثر ہے۔اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الہیہ کا ظلمی طور پر اور جمیع مراتب کو نبیہ کا منبعی و اصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہر یک مرتبہ کو نیہ پر جو عقول و نفوس کلیه و جزئیہ و مراتب طبعیہ الی آخر تنزلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات ، علم ، ارادہ، قدرت، سمع، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔اس نقطہ مرکز کو جو بز رخ بین اللہ و بین الخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مجر دکلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدود نہیں کر سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے محدود کیا گیا ہے کیونکہ یہ نقطہ محمد یہ خلقی طور پر متجمع جميع مراتب الوہیت ہے۔اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہہ دی گئی ہے باعث اس نقصان کے جو اُن میں باقی رہ گیا ہے کیونکہ حقیقت عیسو یہ مظہر اتم صفات الوہیت نہیں ہے بلکہ اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔برخلاف حقیقت محمدیہ کے کہ وہ جمیع صفات الہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی ونقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے۔سو اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلی طور پر خدائے قادر ذوالجلال سے