حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 437
۴۳۷ بطورظلی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسب استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی یا پھر نزدیک ہوا ( یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اترا ( یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا ) پس اسی جہت سے کہ وہ اوپر کی طرف صعود کر کے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا اور اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا اور پھر نیچے کی طرف اُس نے نزول کیا اور اس میں اور خلق میں کوئی حجاب نہ رہا یعنی چونکہ وہ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہا ئیہ تک پہنچ گیا اس لئے دوقوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قطر دائرہ ہے اتم اور اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آ سکتا نزدیک ہوا۔مثلاً صورت ان دو قوسوں کی یہ ہے۔قوس اعلیٰ وجود قدیم قوس اسفل وجود حادث ممکن اس شکل میں جو خط مرکز دائرہ کو قطع کرتا ہے یعنی جو قطر دائرہ ہے وہی قاب قوسین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔جاننا چاہئے کہ دونوں قسم وجود واجب اور ممکن کے ایک ایسے دائرہ کی طرح ہیں کہ جو خط گذرندہ بر مرکز سے دو قوسوں پر منقسم ہو۔وہی خط جو قطر دائرہ ہے جس کو قرآن شریف میں قَابَ قَوْسَيْنِ سے تعبیر کیا ہے اور عام بول چال علم ہندسہ میں اس کو وتر قوسین کہتے ہیں وہ ذات مفیض اور مستفیض میں بطور بر زخ واقع ہے کہ جو اپنے اخص کمال میں جو انتہائی درجہ کمالات کا ہے نقطہ مرکز دائرہ سے جو وتر قوس کا درمیانی نقطہ ہے مشابہت رکھتا ہے۔یہی نقطہ تمام کمالات انسان کامل کا دل ہے جو قوس الوہیت و عبودیت کی طرف بخطوط مساویہ نسبت رکھتا ہے اور یہی نقطہ ارفع نقاط ان خطوط عمودیہ کا ہے جو محیط سے قطر دائرہ تک کھینچے جائیں۔اگر چہ وتر قوسین اور بہت سے ایسے نقاط سے تالیف یافتہ ہے جو درحقیقت کمالات روحانیہ صاحب وتر کے صور محسوسہ ہیں لیکن بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء ورسل وارباب صدق وصفا بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ وارفع واخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی النجم : 109: