حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 436

۴۳۶ مولی کریم کے ساتھ ہوتی ہے۔یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق وصفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بلکلی محو و فنا ہو کر اپنے مولا کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔۔قرب کی دوسری قسم ولد اور والد کی تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَاذْكُرُ وا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا لے یعنی اپنے اللہ جلشانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ مخدوم اُس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے اور حُبّ جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اُس کی جز ہے۔تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہم رنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا۔اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے۔اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خو اور بو بصفائی تمام اس میں پائی جاتی ہے۔علی ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے۔۔۔تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے۔ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات الہیہ صاحب قرب کے وجود میں یہ تما متر صفائی منعکس ہو جاتی ہیں اور یہ انعکاس ہر یک قسم کی تشبہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم و اکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے۔وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلف سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میسر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اُسی کو میتر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہو کر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا عین ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو بکلی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا کر لیتا ہے اور وہ آئینہ ذو جهتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورتِ الہیہ البقرة : ٢٠١