حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 435

۴۳۵ کے کروڑ ہا اور بے شمار بندوں کو نظر کے سامنے رکھ کر اور اُن کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کا موازنہ کر کے سب سے بڑے کو الگ کر کے دکھلاوے۔بلاشبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی جگہ نہیں ہاں ایسے بلند اور عمیق دریافت کرنے کے لئے کتب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خود خدائے تعالیٰ نے پیش از ظهور بلکہ ہزار ہا برس پہلے اس انسان کامل کا پتہ ونشان بیان کر دیا ہے۔پس جس شخص کے دل کو خدائے تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدایت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لا دے اور ان پیشگوئیوں پر غور کرے کہ بائیل میں درج ہیں تو اُسے ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقع ہے یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقامِ عروج ( یعنی عرش رب العالمین ہے ) بتلایا گیا ہے۔یہ در حقیقت اسی انتہائی درجہ کمال ارتفاع کی طرف اشارہ ہے جو اس وجود با جود کو حاصل ہے۔گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالم قضاء و قدر میں حاصل تھا وہ عالم مثال میں مشہود ومحسوس طور پر دکھایا گیا۔جیسا کہ اللہ تعالی اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ ہے پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کی تین قسموں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔جاننا چاہئے کہ قرب الہی کی تین قسمیں تین قسم کی تشبیہہ پر موقوف ہیں جن کی تفصیل سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اول قسم قرب کی خادم اور مخدوم کے تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلہ کے یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرمانبردار کہہ سکتے ہیں سب چیز سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر با اخلاص و باصفا و با وفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثره و کمالاتِ ذاتنیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت و اخلاص و یک رنگی میں ترقی کر جاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت و ہم طریق ہو جاتا ہے اور اُس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے۔اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے البقرة : ۲۵۴ البقرة : ١٦٦