حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 434

۴۳۴ ارتفاع اور دوسری طرف انخفاض ہے۔۔طرف ارتفاع کے اخیر نقطہ پر اُس استعداد کا انسان ہو گا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انحصاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہوگی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لا یعقل کے قریب قریب ہے۔اور اگر سلسلہ جمادی کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اس قاعدہ کو اور بھی اس سے تائید پہنچتی ہے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے جو ایک ذرہ ہے لے کر ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو آفتاب ہے اپنی صفت خالقیت کو تمام کیا ہے اور بلا شبہ خدائے تعالیٰ نے اس جمادی سلسلہ میں آفتاب کو ایک ایسا عظیم الشان اور نافع اور ذی برکت وجود پیدا کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجود نہیں ہے۔سو اس سلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سلسلہ جو اُسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلا تامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کے کام یک رنگ اور یکساں ہیں اس لئے کہ وہ واحد ہے اور اپنے اصدار افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پاسکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزوں طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں۔اب جبکہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پا کر بلکہ بہ بداہت دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے اس قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یونہی گڑ بڑ پڑا ہو بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے با قاعدہ سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں۔جو ایک ادنی درجہ سے شروع ہو کر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق وحدت اُسے محبوب بھی ہے تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدائے تعالیٰ نے جمادی سلسلہ میں ایک ذرہ سے لے کر اس وجو د اعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے جو ظاہری کمالات کا جامع ہے۔جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں۔ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ہوگا جس کا وجود خط مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقع ہو۔اب تفتیش اس بات کی کہ وہ انسانِ کامل جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کون ہے اور اُس کا کیا نام ہے؟ یہ ایسا کام نہیں ہے جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہو سکے کیونکہ بجز خدائے تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کر سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ