حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 429

۴۲۹ دو جز ہیں جن پر ترتب اثر موقوف ہے۔یہی راز ہے جو حکمتِ الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اُس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سُجِدِينَ یعنی جب آدم کو ٹھیک ٹھیک بنالوں اور میں اپنی روح اُس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اُسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اُس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطرتا خدا سے تعلق پیدا ہو جائے۔ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی۔پس اس لئے آدم طبعی طور پر اُن کا شفیع ٹھہرے گا کیونکہ باعث نفخ روح جو راستبازی آدم کی فطرت کو دی گئی ہے ضرور ہے کہ اُس کی راستبازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہر ایک جانور کا بچہ اس کی صفات اور افعال میں سے حصہ لیتا ہے اور دراصل شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرتی وارث اپنے مورث سے حصہ لے کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شَفَع کے لفظ سے نکلا ہے جو زوج کو کہتے ہیں۔پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا زوج ٹھہر جائے گا ضرور اُس کی صفات میں سے حصہ لے گا۔اسی اصول پر تمام سلسلہ خلقی توارث کا جاری ہے یعنی انسان کا بچہ انسانی قومی میں سے حصہ لیتا ہے اور گھوڑے کا بچہ گھوڑے کے قومی میں سے حصہ لیتا ہے اور بکری کا بچہ بکری کے قومی میں سے حصہ لیتا ہے اور اسی وراثت کا نام دوسرے لفظوں میں شفاعت سے فیضیاب ہونا ہے کیونکہ جب شفاعت کی اصل شفع یعنی زوج ہے پس تمام مدار شفاعت سے فیض اٹھانے کا اس بات پر ہے کہ جس شخص کی شفاعت سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اُس سے فطرتی تعلق اس کو حاصل ہوتا ہے تا جو کچھ اس کی فطرت کو دیا گیا ہے۔اس کی فطرت کو بھی وہی ملے۔یہ تعلق جیسا کہ وہی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ایک جز ہے ایسا ہی کسی طور پر بھی یہ تعلق زیادت پذیر ہے۔یعنی جب ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ جو فطرتی محبت اور فطرتی ہمدردی بنی نوع کی اس میں موجود ہے اس میں زیادت ہو تو اس میں بقدر الحجر : ٣٠