حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 427
۴۲۷ دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا، میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔میں نے اپنی رُوح اس پر رکھی۔وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا۔وہ نہ چلائے گا اور اپنی صدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سُنائے گا۔وہ مسلی ہوئی سینتھی کو نہ توڑے گا اور سن کو جس سے دھواں اٹھتا ہے نہ بجھائے گا جب تک کہ راستی کو امن کے ساتھ نہ ظاہر کرے۔وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اُس۔۔۔۔۔کی شریعت کے منتظر ہو دیں۔خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اسکائے گا۔الخ اب جاننا چاہئے کہ یہ فقرہ کہ خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پُر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے۔دیکھو یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۴۲ اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی اسی استعارہ کو اپنی پیشگوئیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استعمال کیا ہے۔توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۵ تا ۶۷ حاشیہ ) مذہبی مسائل میں سے نجات اور شفاعت کا مسئلہ ایک ایسا عظیم الشان اور مدار المہام مسئلہ ہے کہ مذہبی پابندی کے تمام اغراض اسی پر جا کر ختم ہو جاتے ہیں۔اور کسی مذہب کے صدق اور سچائی کے پر کھنے کے لئے وہی ایک ایسا صاف اور کھلا کھلا نشان ہے جس کے ذریعہ سے پوری تسلی اور اطمینان سے معلوم ہوسکتا ہے کہ فلاں مذہب در حقیقت سچا اور خدا کی طرف سے ہے۔اور یہ بات بالکل راست اور درست ہے کہ جس مذہب نے اس مسئلہ کو صحیح طور پر بیان نہیں کیا یا اپنے فرقہ میں نجات یافتہ لوگوں کے موجودہ نمونے کھلے کھلے امتیاز کے ساتھ دکھلا نہیں سکا اس مذہب کے باطل ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں مگر جس مذہب نے کمال صحت سے نجات کی اصل حقیقت دکھلائی ہے۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ اپنے موجودہ زمانے میں ایسے انسان بھی پیش کئے ہیں جن میں کامل طور پر نجات کی روح پھونکی گئی ہے۔اُس نے مہر لگا دی ہے کہ وہ سچا اور منجانب اللہ ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک انسان طبعا اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ وہ صد با طرح کی غفلتوں اور پر دوں اور نفسانی حملوں اور لغزشوں اور کمزوریوں اور جہالتوں اور قدم قدم پر تاریکیوں اور ٹھوکروں اور مسلسل خطرات اور وساوس کی وجہ سے اور نیز دنیا کی انواع و اقسام کی آفتوں اور بلاؤں کے سبب سے لا یسعیاہ باب ۲۴ آیت ۱ تا ۲۳