حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 422

۴۲۲ ہے وہ بقاء جس میں فیض نہیں۔دنیا میں صرف دو زندگیئیں قابل تعریف ہیں۔(۱) ایک وہ زندگی جوخود خدا حى و قَيُّوم مبداء فیض کی زندگی ہے۔(۲) دوسری وہ زندگی جو فیض بخش اور خدا نما ہو۔سو آؤ ہم دکھاتے ہیں کہ وہ زندگی صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔جس پر ہر ایک زمانہ میں آسمان گواہی دیتا رہا ہے اور اب بھی دیتا ہے اور یاد رکھو کہ جس میں فیاضانہ زندگی نہیں وہ مُردہ ہے نہ زندہ اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بد ذاتی ہے کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اور کمال کا یہ ثبوت دیا ہے کہ میں نے اس کی پیروی سے اور اُس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اُترتے ہوئے اور دل کو یقین کے نور سے پُر ہوتے ہوئے پایا۔اور اس قدرنشان غیبی دیکھے کہ اُن کھلے کھلے نوروں کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۰،۱۳۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہونچی ہوئی نظر آتی ہے۔وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر آپ رُوح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منور ہیں جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے۔یہاں تک کہ آپ کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اس کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے۔قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله نے اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں۔ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔الحکم مورخہ ۷ ارستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۲۔ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۳۱ ۱۳۲۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا جس کے لوازم میں سے محبت اور تعظیم اور ال عمران : ۳۲