حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 420
۴۲۰ طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۹ تا ۵۳۲ حاشیه در حاشیه نمبر۳) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاودانی زندگی پر یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت مدوح کا فیض جاودانی جاری ہے اور جو شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلاشبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے۔اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اُس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مددمیں اور سماوی برکتیں اور رُوح القدس کی خارق عادت تائید میں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفر دانسان ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اپنے اسرار خاصہ اُس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق و معارف کھولتا ہے۔اور اپنی محبت اور عنایت کے چمکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کر دیتا ہے اور اپنی نصرتیں اُس پر اوتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے۔اور اپنی ربوبیت کا آئینہ اُس کو بنا دیتا ہے۔اُس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اس کے دل سے نکات لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں۔اور پوشیدہ بھید اُس پر آشکار کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان حجتی اس پر فرماتا ہے اور اس سے نہایت قریب ہو جاتا ہے۔اور وہ اپنی استجابت دعاؤں میں اور اپنی قبولیوں میں اور فتح ابواب معرفت میں اور انکشاف اسرار غیبیہ میں اور نزول برکات میں سب سے اوپر اور سب پر غالب رہتا ہے۔چنانچہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر انہیں امور کی نسبت اور اسی اتمام حجت کی غرض سے کئی ہزار رجسٹری شدہ خط ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے نامی مخالفوں کی طرف روانہ کئے تھے تا اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ یہ رُوحانی حیات بجز اتباع خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور ذریعہ سے بھی مل سکتی ہے تو وہ اس عاجز کا مقابلہ کرے۔اور اگر یہ نہیں تو طالب حق بن کر یک طرفہ برکات اور آیات اور نشانوں کے مشاہدہ کے لئے حاضر آوے لیکن کسی نے صدق اور نیک نیتی سے اس طرف رخ نہ کیا اور اپنی کنارہ کشی سے ثابت کر دیا کہ وہ سب تاریکی میں گرے ہوئے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۱-۲۲۲) ہم یقیناً جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نبی اور سب سے زیادہ پیارا جناب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم البقرة :