حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 33

۳۳ یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں۔اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے لئے۔دافع البلاء فی معیار اہل الاصطفاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۱،۲۴۰) آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا۔سومیں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفتر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔پس یہی مهدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴) سوال: - مسیح ابن مریم نے تو بہت سے معجزات سے اپنے من جانب اللہ ہونے کا ثبوت دیا تھا۔آپ نے کیا ثبوت دیا۔کیا کوئی مُردہ زندہ کر دیا یا کوئی مادر زاد اندھا آپ سے اچھا ہوا۔اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ آپ مثیل مسیح ہیں تو ہمیں آپ کے وجود سے کیا فائدہ ہوا؟ اما الجواب:۔پس واضح ہو کہ انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی نہیں یہ کیسا مسیح ہے کیونکہ ایسا مردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اور اُس جہان کا سب حال سُنا تا اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ میں سے آیا ہوں۔تم جلد ایمان لے آؤ۔اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے باپ دادے زندہ کر کے دکھا دیتا اور ان سے گواہی دلوا تا تو بھلا کس کو انکار کی مجال تھی۔غرض پیغمبروں نے نشان تو دکھائے مگر پھر بھی بے ایمانوں سے مخفی رہے۔ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مردوں کے زندہ ہونے کے لئے بہت سا آب حیات خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے۔بے شک جو شخص اس میں سے پئے گا زندہ ہو جائے گا۔بلاشبہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مُردے زندہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجز دم صاف نہ ہوں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے پاک کلام میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے۔نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بندگانِ خدا کو بہت صاف کر رہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔یقینا سمجھو کہ روحانی حیات کا تخم ایک رائی کے بیج کی طرح بویا گیا ہے مگر قریب ہے ہاں بہت