حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 419
۴۱۹ سکون میں ، اُن کے نطق میں، ان کی خاموشی میں، اُن کے ظاہر میں ، اُن کے باطن میں ایسا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک لطیف اور مصفا شیشہ ایک نہایت عمدہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے فیض صحبت اور ارتباط اور محبت سے وہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں کہ جو ریاضات شاقہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں اور اُن کی نسبت ارادت اور عقیدت پیدا کرنے سے ایمانی حالت ایک دوسرا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور نیک اخلاق کے ظاہر کرنے میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور شوریدگی اور امارگی نفس کی رو بھی ہونے لگتی ہے اور اطمینان اور حلاوت پیدا ہوتی جاتی ہے۔اور بقدر استعداد اور مناسبت ذوق ایمانی جوش مارتا ہے اور اُنس اور شوق ظاہر ہوتا ہے اور التذاذ بذكرِ اللہ بڑھتا ہے اور اُن کی صحبت طویلہ سے بضرورت یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ایمانی قوتوں میں اور اخلاقی حالتوں میں اور انقطاع عن الدنیا میں اور توجہ الی اللہ میں اور محبت الہیہ میں اور شفقت علی العباد میں اور وفا اور رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں دیکھی گئی۔اور عقل سلیم فی الفور معلوم کر لیتی ہے کہ وہ بند اور زنجیر اُن کے پانون سے اتارے گئے ہیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں اور وہ جنگی اور انقباض اُن کے سینہ سے دور کیا گیا ہے جس کے باعث سے دوسرے لوگوں کے سینے منقبض اور کوفتہ خاطر ہیں۔ایسا ہی وہ لوگ تحدیث اور مکالمات حضرت احدیت سے بکثرت مشرف ہوتے ہیں اور متواتر اور دائمی خطابات کے قابل ٹھہر جاتے ہیں اور حق جل وعلی اور اُس کے مستعد بندوں میں ارشاد اور ہدایت کے لئے واسطہ گردانے جاتے ہیں۔اُن کی نورانیت دوسرے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔اور جیسے موسم بہار کے آنے سے نباتی قو تیں جوش زن ہو جاتی ہیں ایسا ہی ان کے ظہور سے فطرتی نور طبائع سلیمہ میں جوش مارتے ہیں اور خود بخود ہر یک سعید کا دل یہی چاہتا ہے کہ اپنی سعادت مندی کی استعدادوں کو بکوشش تمام منصہ ظہور میں لاوے اور خواب غفلت کے پردوں سے خلاصی پاوے اور معصیت اور فسق و فجور کے داغوں سے اور جہالت اور بے خبری کی ظلمتوں سے نجات حاصل کرے۔سوان کے مبارک عہد میں کچھ ایسی خاصیت ہوتی ہے اور کچھ اس قسم کا انتشار نورانیت ہو جاتا ہے کہ ہر یک مومن اور طالب حق بقدر طاقت ایمانی اپنے نفس میں بغیر کسی ظاہری موجب کے انشراح اور شوق دینداری کا پاتا ہے اور ہمت کو زیادت اور قوت میں دیکھتا ہے۔غرض اُن کے اس عطر لطیف سے جو اُن کو کامل متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے ہر یک مخلص کو بقدر اپنے اخلاص کے حظ پہنچتا ہے۔ہاں جو لوگ شقی از لی ہیں وہ اس سے کچھ حصہ نہیں پاتے بلکہ اور بھی عناد اور حسد اور شقاوت میں بڑھ کر ہاو یہ جہنم میں گرتے ہیں۔اسی کی