حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 418
۴۱۸ کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ اُمت محمدیہ پر ہوتا ہے دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہو سکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہو سکے۔دوسرے اس اُمت کی کمالیت اور دوسری اُمتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے۔اور حقیت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ تر و تازہ ہوتا رہتا ہے۔صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے۔اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہو جاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلت اور رسوائی اور روسیا ہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈتوں وغیرہ میں ثابت نہیں کر سکتے۔فَتَدَبَّرُ أَيُّهَا الصَّادِقُ فِى الطَّلَبِ اَيَّدَكَ اللهُ فِى طَلَبِكَ۔حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدرشان بزرگ ہے اور اس آفتاب صداقت کی کیسی اعلیٰ درجہ پر روشن تاثیریں ہیں جس کا اتباع کسی کو مومن کامل بناتا ہے۔کسی کو عارف کے درجے تک پہنچاتا ہے۔کسی کو آیت اللہ اور حجت اللہ کا مرتبہ عنایت فرماتا ہے اور محامد الہیہ کا مورد ٹھہراتا ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار تصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۸ تا ۲۷۱ حاشیه در حاشیه نمبرا) جب سے کہ آفتاب صداقت ذات بابرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آیا اُسی دم سے آج تک ہزار ہا نفوس جو استعداد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلام الہی اور اتباع رسول مقبول سے مدارج عالیہ مذکورہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں۔اور خدائے تعالیٰ اس قدر ان پر پے در پے اور عَلَى الاتصال تلطفات و تفضلات وارد کرتا ہے اور اپنی حمائتیں اور عنائتیں دکھلاتا ہے کہ صافی نگاہوں کی نظر میں ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ منظور انِ نظر احدیت سے ہیں۔جن پر لطف ربانی کا ایک عظیم الشان سایہ اور فَضْلِ يَزْدَانی کا ایک جلیل القدر پیرایہ ہے اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ انعامات خارق عادت سے سرفراز ہیں اور کرامات عجیب وغریب سے ممتاز ہیں اور محبوبیت کے عطر سے معطر ہیں اور مقبولیت کے نخروں سے مفتخر ہیں اور قادر مطلق کا نوران کی صحبت میں ، ان کی توجہ میں ، اُن کی ہمت میں، اُن کی دُعا میں، اُن کی نظر میں، اُن کے اخلاق میں، اُن کی طرز معیشت میں، اُن کی خوشنودی میں، اُن کے غضب میں، اُن کی رغبت میں، اُن کی نفرت میں، اُن کی حرکت میں، اُن کے