حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 417
۴۱۷ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اُسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۹۸ حاشیه در حاشیہ نمبر۳) یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنی امتی آں رسول مقبول کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہو سکے۔بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالات قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔مگر اے طالب حق ! اَرشَدَکَ اللہ تم متوجہ ہو کر اس بات کو سنو کہ خدا وند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افرادِ اُمتِ محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلیل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گذرے ہوتے ہیں خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں اُن کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات اُن سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے۔اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اُسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتا ہے۔مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجود با وجود حضرتِ نبوی ہے مثل ظل کے ٹھہر جاتا ہے۔اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار الہیہ پیدا اور ہویدا ہیں اُس کے اس فل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں ہاں سایہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجود نہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کے شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالت نقصان خیال نہ کریں کہ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار باطنی اُن کی اُمت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں اور سمجھنا چاہئے