حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 416

۴۱۶ کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو! اُٹھو اور گواہی دو کہ اس صفت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔۔۔اندھے مخلوق پرستوں نے اس بزرگ رسول کو شناخت نہیں کیا جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے۔لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ یہ پاک رسول شناخت کیا جائے۔چاہو تو میری بات کو لکھ رکھو کہ اب کے بعد مُردہ پرستی روز بروز کم ہوگی یہاں تک کہ نابود ہو جائے گی۔کیا انسان خدا کا مقابلہ کرے گا؟ کیا نا چیز قطرہ خدا کے ارادوں کو رد کر دے گا کیا فانی آدم زاد کے منصوبے الہی حکموں کو ذلیل کر دیں گے؟ اے سننے والو! سنو ! اور اے سوچنے والو! سوچو اور یا درکھو کہ حق ظاہر ہو گا۔اور وہ جو سچا ٹور ہے چمکے گا۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۹ تا ۱۱ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۸ ۹ بار دوم ) میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔اس طرح پر کہ خود اُس کے دل میں محبت الہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔تب محبت الہی کی ایک خاص تجلی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قومی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آجاتا ہے۔اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸،۶۷) درود شریف کے طفیل۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔یقیناً کوئی فیض بدوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں تک پہونچ ہی نہیں سکتا۔۔درودشریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اُس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔الحکم مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ کالم نمبر ۲۰)