حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 412
۴۱۲ اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔اور اگر چہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم وصلوۃ اور دُعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزا سمۂ وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب توفیق پا سکتا ہے کہ صوم اور صلوۃ بجا لاوے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ان سب اعمال صالحہ کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اسی کے بنین و بنات ہیں۔اور ابتدا اس معرفت کی پر توہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلاعلت فیضان سے صرف ایک موہت ہے يَهْدِي مَنْ يَّشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام صحن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے۔اور اس معرفت تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے۔تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہی ! جو میرا ہے سو تیرا ہے۔اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے! جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔اس مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا الجز و ۲۴ سورۃ الزمر۔یعنی کہہ اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو۔خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا۔اب اس آیت میں بجائے قُلْ لِعِبَادِ اللہ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو۔یہ فرمایا کہ قُلْ لِعِبَادِی یعنی کہہ کہ اے میرے غلامو! اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گنا ہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے۔سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو الزمر : ۵۴