حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 401
۴۰۱ قرار دے لیتا ہے۔جیسا یہ امر جنگلی آدمیوں پر نظر کرنے سے ہمیشہ بہ پایۂ تصدیق پہنچتا رہا ہے۔پس یہ الہام ہی کا فیض ہے جس کی برکتوں سے انسان نے اُس خدائے بے مثل و مانند کو اسی طرح پر شناخت کر لیا جیسا اس کی ذات کامل و بے عیب کے لائق ہے۔اور جو لوگ الہام سے بے خبر ہو گئے اور کوئی کتاب الہامی اُن میں موجود نہ رہی اور نہ کوئی ذریعہ الہام پر اطلاع پانے کا اُن کو میسر آیا با وجود اس کے کہ آنکھیں بھی رکھتے تھے اور دل بھی مگر کچھ بھی معرفتِ الہی اُن کو نصیب نہ ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ انسانیت سے بھی باہر ہو گئے اور قریب قریب حیوانات لا یعقل کے پہنچ گئے اور صحیفہ فطرت نے کچھ بھی اُن کو فائدہ نہ پہنچایا۔پس ظاہر ہے کہ اگر وہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا تو اس سے جنگلی لوگ فائدہ اٹھا کر معرفت اور خدا شناسی میں ان لوگوں کے برابر ہو جاتے جنہوں نے بذریعہ الہام الہی خدا شناسی میں ترقی کی۔پس صحیفہ فطرت کے بند ہونے میں اس سے زیادہ تر اور کیا ثبوت ہو گا کہ جس کسی کا کام صرف اسی صحیفہ سے پڑا اور الہام الہی کا اُس نے کبھی نام نہ سُنا۔وہ خدا کی شناخت سے بالکل محروم بلکہ انسانیت کے آداب سے بھی دور اور مہجور رہا اور اگر صحیفہ فطرت کے کھلے ہوئے ہونے سے یہ مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر نظر آتا ہے تو یہ بے سود خیال ہے جس کو بحث ہذا سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ جس حالت میں کوئی شخص صرف اس صحیفہ فطرت پر نظر کر کے کوئی فائدہ علم دین کا اٹھا نہیں سکتا اور جب تک الہام رہبری نہ کرے خدا کو پا نہیں سکتا تو پھر ہمیں اس سے کیا کہ کوئی چیز ہر وقت نظر آ رہی ہے یا نہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۰۷ تا ۲۱۶ حاشیہ نمبر۱۱) تمام تواریخ دان بخوبی جانتے ہیں کہ از منہ سابقہ میں بھی جب کسی نے خدا کے نام اور اُس کی صفات کاملہ سے پوری پوری واقفیت حاصل کی تو الہام ہی کے ذریعہ سے کی اور عقل کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں بھی توحید الہی شائع نہ ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ جس جگہ الہام نہ پہنچا اس جگہ کے لوگ خدا کے نام سے بے خبر اور حیوانات کی طرح بے تمیز اور بے تہذیب رہے کون کوئی ایسی کتاب ہمارے سامنے پیش کر سکتا ہے کہ جواز منہ سابقہ میں سے کسی زمانہ میں علم الہی کے بیان میں تصنیف ہوئی ہو اور حقیقی سچائیوں پر مشتمل ہو جس میں مصنف نے یہ دعوی کیا ہو کہ اُس نے خدا شناسی کے مستقیم راہ کو بذریعہ الہام حاصل نہیں کیا اور نہ خدائے واحد کی ہستی پر بطور سماع اطلاع پائی ہے بلکہ خدا کا پتہ لگانے اور صفات الہیہ کے جانے اور معلوم کرنے میں صرف اپنی ہی عقل اور اپنے ہی فکر اور اپنی ہی ریاضت اور اپنی ہی عرقریزی سے مددملی ہے اور بلا تعلیم غیرے آپ ہی مسئلہ وحدانیت الہی کو معلوم کر لیا ہے اور خود بخود ذہن خدائے تعالیٰ