حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page iv of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page iv

تعارف از حضرت سید میر داؤ د احمد صاحب) کسی شخص کا یہ دعوی کرنا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور اُس نے مجھے اپن برگزیدہ مامور ٹھہرایا ہے اور مجھے علم لدنی سے سرفراز فرمایا ہے اور مجھے تمام دنیا پر فضلیت عطا فرمائی ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی طرف سے رسول ہو کر تمام مخلوق کو اس کی طرف بلاؤں اتنا غیر معمولی اور حجرات مندانہ دعوی ہے کہ کوئی عقلمند انسان اس سے عدم توجہی نہیں برت سکتا۔دُنیا کی ادنی ادنی حکومتیں جب کسی کو اپنا نمائندہ یا سفیر بنا کر کسی دوسرے ملک کو بھیجتی ہیں تو بڑی بڑی جابر حکومتیں بھی اس کی بات سننے اور اس کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کجا یہ کہ تمام کائنات کے خالق و مالک کی طرف سے جس کی مٹھی میں یہ سارا جہان ہے۔جو ہر چیز کو نیست سے ہست میں لایا اور جب چاہے اسے ایک طرفۃ العین میں پھر ہستی سے نیستی کی طرف کو ٹاسکتا ہے آنے والے پیغامبر سے لا پرواہی اور عدم توجہی کا حق جائز سمجھا جائے۔جو شخص خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ہے وہ بھی یہ موقف اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی عقل مجبور کرتی ہے کہ جس طرح وہ اور دنیوی صداقتوں کے پیش کرنے والوں کے دعوی کی چھان بین کرتا ہے اسی طرح وہ مدعی ماموریت کے دعوی کی بھی پوری سنجیدگی سے چھان بین کرے اور اس کے پیش کردہ دلائل کو زیر غور لائے پھر اگر اس کی سمجھ میں آ جائے تو قبول کرلے ورنہ ر ذکر دے لیکن وہ یہ موقف تو کسی طرح بھی اختیار نہیں کر سکتا کہ مجھے ان دعاوی پر غور کرنے یا اس کی جانچ پڑتال کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔اور جو شخص کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل ہے اور یقین رکھتا ہے کہ از منہ سابقہ میں وقتا فوقتا اللہ تعالیٰ اپنے پیغامبر مبعوث کرتا رہا ہے۔اس کی مقدس کتا بیں اُسے بتاتی ہیں کہ جب سے یہ دنیا پیدا ہوئی ہے یا دنیا کی تاریخ محفوظ ہے واقعی اللہ تعالیٰ کے ہزاروں ہزار ایسے مامور اس دُنیا