حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 387

۳۸۷ ان کے کسی برہمو وغیرہ کو حاصل نہیں۔اسی وہم کا ضمیمہ بر ہمو سماج والوں کا ایک اور مقولہ ہے کہ گویا انہوں نے اپنے اسی قامت ناساز کو ایک دوسرے لباس میں ظاہر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ الہام کا تابع ہونا ایک حرکت خلاف وضع استقامت اور مبائن طریق فطرت ہے کیونکہ ہر یک امر کی حقیقت پر مطلع ہونے کے لئے صاف اور سیدھا راستہ کہ جس کو ہر یک انسان کا نفس ناطقہ بمقتضائے اپنی فطرت کے چاہتا ہے یہی ہے کہ عقلی دلائل سے اس حقیقت کو کھولا جائے۔جیسے مثلا فعل سرقہ کے قبیح ہونے کے لئے حقیقی وجہ جس پر روحانی اطمینان موقوف ہے یہی ہے کہ وہ ایک ظلم اور تعدی ہے کہ عند العقل نامناسب اور ناجائز ہے۔یہ وجہ نہیں ہے کہ جو کسی الہامی کتاب نے اس کا مرتکب ہونا گناہ لکھا ہے۔یا مثلاً سم الفار جو ایک زہر ہے اُس کے کھانے کی ممانعت حقیقی طور پر اس بنا پر ہو سکتی ہے کہ وہ قاتل اور مہلک ہے نہ اس بنا پر کہ خدا کے کلام میں اس کے اکل وشرب سے نہی وارد ہے۔پس ثابت ہے کہ واقعی اور حقیقی سچائی کی رہ نما صرف عقل ہے نہ الہام لیکن ان حضرات کو ابھی تک یہ خبر بھی نہیں کہ اس وہم کا تو اسی وقت قلع قمع ہو گیا کہ جب مضبوط اور قوی دلائل سے ان کی عقل کا خام اور نا تمام ہونا بپایہ ثبوت پہنچ گیا۔کیا یہ عقلمندی ہے کہ جس وسوسہ کو دلائل قومیہ کے پُر زور لشکر نے پیس ڈالا ہے اُسی مُردہ خیال کو بے شرم آدمی کی طرح بار بار پیش کیا جائے۔افسوس افسوس !! ارے بابا کیا تم بارہائن نہیں چلے کہ گو حقائق اشیاء عقلی دلائل سے کسی قدر منکشف ہوتے ہیں مگر ایسا تو نہیں کہ تمام مراتب یقین کا استعمال عقل ہی پر موقوف ہے۔آپ تو اپنی ہی مثال پیش کردہ سے ملزم ہو سکتے ہیں۔کیونکہ سم الفار کا قاتل اور مہلک ہونا مجرد عقل کے ذریعہ سے بپایہ ثبوت نہیں پہنچا بلکہ یقینی طور پر یہ خاصیت اس کی تب معلوم ہوئی جب عقل نے تجربہ صحیحہ کو اپنا رفیق بنا کرسم الفار کی خاصیت مخفیہ کو مشاہدہ کر لیا ہے۔سو ہم بھی آپ کو یہی سمجھاتے ہیں کہ جیسی سم الفار کی خاصیت یقینی طور پر دریافت کرنے کے لئے عقل کو ایک دوسرے رفیق کی حاجت ہوئی یعنی تجر بہ صحیحہ کی حاجت۔ایسا ہی الہیات اور عالم معاد کے حقائق علی وجہ الیقین دریافت کرنے کے لئے عقل کو الہام الہی کی حاجت ہے اور بغیر اس رفیق کے عقل کا کام علم دین میں چل نہیں سکتا۔جیسے دوسرے علوم میں بغیر دوسرے رفیقوں کے عقل بے دست و پا اور ناقص اور نا تمام ہے۔غرض عقل في حد ذاتہ مستقل طور پر کسی کام کو یقینی طور پر انجام نہیں دے سکتی جب تک کوئی دوسرا رفیق اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔اور بغیر شمول رفیق کے ممکن نہیں کہ خطا اور غلطی سے محفوظ اور معصوم رہ سکے بالخصوص علم الہی میں جس کے تمام ابحاث کی گنہ اور حقیقت اس عالم کی