حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 386
۳۸۶ عظمندوں نے خدا کی ہستی پر رائے ظاہر کرنی شروع کی تو دوسرے عقلمندوں نے ان کے مخالف ہو کر دہر یہ مذہب کی تائید میں کتابیں تصنیف کیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان عاقلوں کا فرقہ کہ جو خدا کی ہستی کے کسی قدر قائل تھے وہ بھی دہر یہ پن کی رگ سے کبھی خالی نہیں ہوا اور نہ اب خالی ہے۔انہی بر ہمولوگوں کو دیکھو کب وہ خدا کو کامل صفتوں سے متصف سمجھتے ہیں کب ان کو اقرار ہے کہ خدا گونگا نہیں بلکہ اُس میں حقیقی طور پر صفت تکلم بھی ہے جیسی ایک جیتے جاگتے میں ہونی چاہئے۔کب وہ اس کو حقانی طور پر پورا پورا مد بر اور رزاق سمجھتے ہیں۔کب ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقت میں خدا حی و قیوم ہے اور اپنی آوازیں صادق دلوں تک پہنچا سکتا ہے۔بلکہ وہ تو اس کے وجود کو ایک موہومی اور مردہ سا خیال کرتے ہیں کہ جس کو عقل انسانی صرف اپنے ہی تصورات سے ایک فرضی طور پر ٹھہرا لیتی ہے اور اس طرف سے زندوں کی طرح کبھی آواز نہیں آتی۔گویا وہ خدا نہیں ایک بُت ہی ہے کہ جو کسی گوشہ میں پڑا ہے۔میں متعجب ہوں کہ ایسے کچے اور ضعیف خیالات سے کیونکر یہ لوگ خوش ہوئے بیٹھے ہیں اور ایسے خود تراشیدہ باتوں سے کن ثمرات کی توقع ہے۔کیوں سچے طالبوں کی طرح اس خدا کو نہیں ڈھونڈتے کہ جو قادر توانا اور جیتا جاگتا ہے اور اپنے وجود پر آپ اطلاع دینے کی قدرت رکھتا ہے اور اني انا الله کی آواز سے مُردوں کو ایک دم میں زندہ کر سکتا ہے۔جب یہ لوگ خود جانتے ہیں کہ عقل کی روشنی دود آمیز ہے تو پھر کامل روشنی کے کیوں خواہاں نہیں ہوتے۔عجب احمق ہیں کہ اپنے مریض ہونے کے تو قائل ہیں پر علاج کا کچھ فکر نہیں۔ہائے افسوس! کیوں ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں تا وہ حق الا مر کو دیکھ لیں۔کیوں ان کے کانوں پر سے پردہ نہیں اُٹھتا تا وہ حقانی آواز کوسُن لیں۔کیوں ان کے دل ایسے کجرو اور ان کی سمجھیں ایسی الٹی ہو گئیں کہ جو اعتراض حقیقت میں اُنہی پر وارد ہوتا تھا وہ الہام خفن م حقیقی کے تابعین پر کرنے لگے۔اسی وہم کا ضمیمہ بر ہمو سماج والوں کا ایک اور و ہم بھی ہے کہ الہام ایک قید ہے اور ہم ہر ایک قید سے آزاد ہیں یعنی ہم اچھے ہیں کیونکہ آزاد قیدی سے اچھا ہوتا ہے۔ہم اس نکتہ چینی کو مانتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ بلاشبہ الہام ایک قید ہے مگر ایسی قید ہے کہ جس کے بغیر سچی آزادی حاصل ہونا ممکن نہیں کیونکہ سچی آزادی وہ ہے کہ انسان کو ہر یک نوع کی غلطی اور شکوک اور شبہات سے نجات ہو کر مرتبہ یقین کامل کا حاصل ہو جائے اور اپنے موٹی کریم کو اسی دنیا میں دیکھ لے۔سو جیسا کہ ہم اسی حاشیہ میں ثابت کر چکے ہیں یہ حقیقی آزادی دنیا میں کامل اور خدا دوست مسلمانوں کو بذریعہ قرآن شریف حاصل ہے اور بجز