حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 385

۳۸۵ ایک شخص ایک دور دراز ولایت کا سیر کر کے آتا ہے تو جب اپنے وطن میں پہنچتا ہے تو ہر یک خویش و بریگانہ اس ولایت کی خبریں اُس سے دریافت کرتا ہے اور اُس کی چشم دید خبریں بشرطیکہ وہ دروغ گوئی کی عادت سے متہم نہ ہو دلوں پر بہت اثر کرتی ہیں اور بغیر کسی تردد اور شک کے فی الواقعہ راست اور صحیح سمجھی جاتی ہیں۔بالخصوص جب ایسا مخبر ہو کہ لوگوں کی نظر میں ایک بزرگوار اور صالح آدمی ہو۔اس قدر تاثیر اس کی کلام میں کیوں ہوتی ہے اس لئے ہوتی ہے کہ اول اس کو ایک شریف اور راستباز تسلیم کر کے پھر اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ جو جو ان ملکوں کے واقعات بیان کرتا ہے ان کو اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور جو جو خبریں بتلاتا ہے وہ سب اس کا چشم دید ماجرا ہے۔پس اسی باعث سے اس کی باتوں کا دلوں پر سخت اثر واقع ہوتا ہے اور اس کے بیانات طبیعتوں میں ایسے جم جاتے ہیں کہ گویا ان واقعات کی تصویر نظر کے سامنے آموجود ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات جب وہ اپنے سفر کی ایک رقت آمیز حکایت سُنا تا ہے یا کسی قوم کا درد انگیز قصہ بیان کرتا ہے تو سنتے ہی وہ بات سامعین کے دل کو ایسا پکڑ لیتی ہے کہ اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور ان کی ایک ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ گویا وہ موقع پر موجود ہیں اور اس واقعہ کو چشم خود دیکھ رہے ہیں۔لیکن جو شخص اپنے گھر کی چار دیوار سے کبھی باہر نہیں نکلا نہ اس ملک میں کبھی گیا اور نہ دیکھنے والوں سے کبھی اس کا حال سُنا اگر وہ اُٹھ کر صرف اپنی انکل سے اس ملک کی خبریں بیان کرنے لگے تو اس کی بک بک سے خاک بھی تا ثیر نہیں ہوتی۔بلکہ لوگ اُسے کہتے ہیں کہ کیا تو پاگل اور دیوانہ ہے کہ ایسی باتیں بیان کرنے لگا کہ جو تیرے معائنہ اور تجربہ سے باہر ہیں اور تیرے ناقص علم سے بلند تر ہیں اور اس پر ایسا ہی کہتے ہیں کہ جیسا ایک بزرگ نے کسی احمق کا قصہ لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ گیہوں کی روٹی کی بہت سی تعریفیں کر رہا تھا کہ وہ بہت ہی مزیدار ہوتی ہے اور جب پوچھا گیا کہ کیا تو نے بھی کبھی کھائی ہے تو اس نے جواب دیا کہ میں نے کھائی تو کبھی نہیں پر میرے دادا جی بات کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے کسی کو کھاتے دیکھا ہے۔غرض جب تک کوئی سامعین کی نظر میں کسی واقعہ پر بکلی محیط نہ ہو تب تک بجائے اس کے کہ اُس کا کلام دلوں پر کچھ اثر کرے خواہ نخواہ ٹھٹھا اور نہی کرانے کا موجب ٹھہرتا ہے یہی وجہ ہے کہ مجرد عقلمندوں کی خشک تقریروں نے کسی کو عالم آخرت کی طرف یقینی طور پر متوجہ نہیں کیا اور لوگ یہی سمجھتے رہے کہ جیسا یہ لوگ صرف انکل سے باتیں کرتے ہیں علی ہذا القیاس ہم بھی اُن کی رائے کے مخالف انکلیں دوڑا سکتے ہیں۔نہ انہوں نے موقع پر جا کر اصل حقیقت کو دیکھا نہ ہم نے۔اسی باعث سے جب ایک طرف بعض