حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 384
۳۸۴ اُن واقعات سے متعلق ہو جو ماوراء المحسوسات ہیں جن کو ہم نہ آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ کان سے سُن سکتے ہیں اور نہ ہاتھ سے ٹول سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کر سکتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک تیسرا رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام الہام اور وحی ہے اور قانون قدرت بھی یہی چاہتا ہے کہ جیسے پہلے دو مواضع میں عقل نا تمام کو دور فیق میٹر آگئے ہیں تیسرے موضع میں بھی میسر آیا ہو۔کیونکہ قوانین فطرتیہ میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔بالخصوص جبکہ خدا نے دنیا کے علوم اور فنون میں کہ جن کے نقصان اور سہو اور خطا میں چنداں حرج بھی نہیں انسان کو ناقص رکھنا نہیں چاہا تو اس صورت میں خدا کی نسبت یہ بڑی بد گمانی ہو گی جو ایسا خیال کیا جاوے جو اس نے ان امور کی معرفت تامہ کے بارے میں کہ جن پر کامل یقین رکھنا نجات اخروی کی شرط ہے اور جن کی نسبت شک رکھنے سے جہنم ابدی طیار ہے انسان کو ناقص رکھنا چاہا ہے اور اس کے علم اخروی کو صرف ایسے ایسے ناقص خیالات پر ختم کر دیا ہے کہ جن کی محض انکلوں پر ہی ساری بنیاد ہے اور ایسا ذریعہ اس کے لئے کوئی بھی مقرر نہیں کیا کہ جو شہادت واقعہ دے کر اس کے دل کو یہ تسلی اور تشفی بخشے کہ وہ اصول نجات کہ جن کا ہونا عقل بطور قیاس اور انکل کے تجویز کرتی ہے وہ حقیقت میں موجود ہی ہیں اور جس ضرورت کو عقل قائم کرتی ہے وہ فرضی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی ضرورت ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوا کہ الہیات میں یقین کامل صرف الہام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور انسان کو اپنی نجات کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے اور خود بغیر یقین کامل کے ایمان سلامت لے جانا مشکل۔تو نتیجہ ظاہر ہے کہ انسان کو الہام کی ضرورت ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار تحصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۷۸ تا ۸۰ حاشیہ نمبر۴) اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ مجرد عقلی خیالوں میں صرف اتنا ہی نقص نہیں کہ وہ مراتب یقینیہ سے قاصر ہیں اور دقائق الہیات کے مجموعہ پر قابض نہیں ہو سکتے بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ مجرد عقلی تقریر میں دلوں پر اثر کرنے میں بھی بغایت درجہ کمزور و بے جان ہیں اور کمزور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کسی کلام کا دل پر کارگر ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اس کلام کی سچائی سامع کے ذہن میں ایسی متحقق ہو کہ جس میں ایک ذرا شک کرنے کی گنجائش نہ ہو اور دلی یقین سے یہ بات دل میں بیٹھ جائے کہ جس واقعہ کی مجھ کوخبر دی گئی ہے اس میں غلطی کا امکان نہیں اور ابھی ظاہر ہو چکا ہے کہ مجرد عقل یقین کامل تک پہنچا ہی نہیں سکتی۔پس اس صورت میں یہ بات بدیہی ہے کہ وہ آثار کہ یقین کامل پر مترتب ہوتے ہیں اور وہ تاثیر ہیں کہ جو یقینی کلام دلوں پر کرتی ہے وہ مجرد عقل سے ہرگز متوقع نہیں اور اس کا ثبوت روز مرہ تجربہ سے ظاہر ہے مثلاً