حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 383

۳۸۳ ہیں مگر مجرد عقل انسان کو اس اعلیٰ درجہ یقین کا مالک نہیں بنا سکتی کیونکہ غایت درجہ حکم عقل کا یہ ہے کہ وہ کسی شے کے موجود ہونے کی ضرورت کو ثابت کرے جیسا کسی چیز کی نسبت یہ حکم دے کہ اس چیز کا ہونا ضروری ہے یا یہ چیز ہونی چاہئے۔مگر ایسا حکم ہرگز نہیں دے سکتی کہ واقعہ میں یہ چیز ہے بھی اور یہ پایہ یقین کامل کا کہ علم انسان کا کسی امر کی نسبت ہونا چاہنے کے مرتبہ سے ترقی کر کے ہے کے مرتبہ تک پہنچ جائے تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اُس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کر کے واقعات مشہودہ کا لباس پہناتا ہے۔یعنی جس امر کی نسبت عقل کہتی ہے کہ ہونا چاہئے وہ رفیق اس امر کی نسبت یہ خبر دے دیتا ہے کہ واقعہ میں وہ امر موجود بھی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں عقل صرف ضرورت شے کو ثابت کرتی ہے خود شے کو ثابت نہیں کر سکتی۔اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی ضرورت کا ثابت ہونا امر دیگر ہے اور خود اُس شے کا ثابت ہو جانا امر دیگر۔بہر حال عقل کے لئے ایک رفیق کی حاجت ہوئی کہ تا وہ رفیق عقل کے اس قیاسی اور ناقص قول کا کہ جو ہونا چاہنے کے لفظ سے بولا جاتا ہے مشہودی اور کامل قول سے جو ہے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جبر نقصان کرے اور واقعات سے جیسا کہ وہ نفس الامر میں واقعہ ہیں آگاہی بخشے سوخدا نے جو بڑا ہی رحیم اور کریم ہے اور انسان کو مراتب قصوی یقین تک پہنچانا چاہتا ہے اس حاجت کو پوری کیا ہے اور عقل کے لئے کئی رفیق مقرر کر کے راستہ یقین کامل کا اس پر کھول دیا ہے تا نفس انسان کا کہ جس کی ساری سعادت اور نجات یقین کامل پر موقوف ہے اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہے اور ہونا چاہئے کے نازک اور پُر خطر پل سے کہ عقل نے شکوک اور شبہات کے دریا پر باندھا ہے بہت جلد آگے عبور کر کے ہے کے قصر عالی میں جو دارالامن والاطمینان ہے داخل ہو جائے اور وہ رفیق عقل کے جو اس کے یار اور مددگار ہیں ہر مقام اور موقعہ میں الگ الگ ہیں لیکن از روئے حصہ عقلی کے تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو جو ہر روز دیکھے جاتے پائنے جاتے یا سونگھے جاتے یا ٹولے جاتے ہیں تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچا وے مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے۔اور اگر حکم عقل کا اُن حوادث و واقعات سے متعلق ہو جو مختلف از منہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام تواریخ اور اخبار اور خطوط اور مراسلات ہے اور وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دُود آمیز روشنی کو ایسا مصفا کر دیتا ہے کہ پھر اُس میں شک کرنا ایک عمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا