حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 382
۳۸۲ مخالف اور مزاحم سمجھا جاوے اور مکمل اور تم کو رہزن اور نقصان رساں قرار دیا جائے۔آپ لوگ جب اپنے حواس میں قائم ہو کر اور طالب حق بن کر اس مسئلہ میں غور کریں گے تو آپ پر فی الفور واضح ہو جائے گا کہ خدا نے جو عقل کا رفیق الہام کو ٹھہرا دیا ہے یہ عقل کے حق میں کوئی ضرر کی بات نہیں کی بلکہ اس کو سرگردان اور حیران پا کر حق شناسی کے لئے ایک یقینی آلہ عطا کیا ہے جس کی نشان دہی سے عقل کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ صد با سچ اور ناراست راہوں میں بھٹکتے پھرنے سے بچ جاتی ہے اور سرگشتہ اور آوارہ نہیں ہوتی اور ہر طرف حیرانی سے بھٹکتی نہیں پھرتی بلکہ اصل مقصود کی خاص راہ کو پالیتی ہے اور جو ٹھیک ٹھیک گوہر مراد کی جگہ ہے اس کو دیکھ لیتی ہے اور بے ہودہ جان کنی سے امن میں رہتی ہے۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی سچا مخبر کی گمشدہ شخص کا بدرستی تمام پستہ لگا دیوے کہ وہ فلاں طرف گیا ہے اور فلاں شہر اور فلاں محلہ اور فلاں جگہ میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔سوظاہر ہے کہ ایسے مخبر پر جو کسی گمشدہ کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا دیتا ہے اور اس تک پہنچنے کا سہل اور آسان راستہ بتلا دیتا ہے کوئی با عقل آدمی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ وہ ہماری کارروائی کا حارج ہوا ہے بلکہ اس کے بغایت درجہ ممنون اور شکر گذار ہوتے ہیں کہ ہم بے خبر تھے اس نے خبر دی اور ہم ہر طرف بھٹکتے پھرتے تھے اس نے خاص جگہ بتلا دی اور ہم نری اٹکلیں دوڑاتے تھے اس نے یقین کا دروازہ ہم پر کھول دیا۔ایسا ہی وہ لوگ جن کو خدا نے عقلِ سلیم بخشی ہے حقیقی الہام کے مرہون منت اور ثناخواں اور مداح ہیں اور بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ الہام حقیقی ان کو خیالات کی ترقی سے نہیں روکتا بلکہ خیالات کی سرگشتگی سے روکتا ہے اور انواع اقسام کے پیچ در پیچ اور مشتبہ راہوں میں سے ایک خاص راہِ مقصود جتلا دیتا ہے جس پر قدم مارنا عقل کو نہایت آسان ہو جاتا ہے اور جو جو مشکلات انسان کو بباعث قلت عمر اور قلت طاقت علمی و کمی بصیرت پیش آتی ہیں ان سب سے خلاصی بخشتا ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۹۲ تا ۳۰۹ حاشیہ نمبر۱۱) واضح ہو کہ اگر چہ یہ سچ بات ہے کہ عقل بھی خدا نے انسان کو ایک چراغ عطا کیا ہے کہ جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع اقسام کے بے بنیاد خیالوں اور بے جا وساوس کو دور کرتی ہے نہایت مفید ہے بہت ضروری ہے بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی با وجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اس میں یہ نقصان ہے کہ صرف وہی اکیلی معرفت حقائق اشیاء میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی۔کیونکہ مرتبہ یقین کامل کا یہ ہے کہ جیسا کہ حقائق اشیاء کے واقعہ میں موجود ہیں انسان کو بھی اُن پر ایسا ہی یقین آ جائے کہ ہاں حقیقت میں موجود