حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 378
عظمت اور نورانیت سے خود معلوم ہو جاتی ہے۔جو چیز پاک چشمہ سے نکلی ہے وہ پاکیزگی اور خوشبو اپنے اندر رکھتی ہے اور جو چیز ناپاک اور گندے پانی سے نکلی ہے اس کا گند اور اس کی بد بوفی الفور آ جاتی ہے۔سچی خوا ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔وہ ایک پاک پیغام کی طرح ہوتی ہیں جن کے ساتھ پریشان خیالات کا کوئی مجموعہ نہیں ہوتا۔اور اپنے اندر ایک اثر ڈالنے والی قوت رکھتی ہیں اور دل اُن کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور روح گواہی دیتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے کیونکہ اس کی عظمت اور شوکت ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر ھنس جاتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص سچی خواب دیکھتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے کسی مجلسی کو بطور گواہ ٹھہرانے کے وہی خواب یا اس کے کوئی ہم شکل دکھلا دیتا ہے۔تب اس خواب کو دوسرے کی خواب سے قوت مل جاتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۴) بعض کو تہ فکر لوگ یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ الہام میں یہ خرابی اور نقص ہے کہ وہ معرفت کامل تک پہنچنے سے کہ جو حیات ابدی اور سعادت دائگی کے حصول کا مدار علیہ ہے مانع اور مزاحم ہے اور تقریر اس اعتراض کی یوں کرتے ہیں کہ الہام خیالات کی ترقی کو روکتا ہے اور تحقیقات کے سلسلہ کو آگے چلنے سے بند کرتا ہے۔کیونکہ الہام کے پابند ہونے کی حالت میں ہر ایک بات میں یہی جواب کافی سمجھا جاتا ہے کہ یہ امر ہماری الہامی کتاب میں جائز یا نا جائز لکھا ہے اور قومی عقلیہ کو ایسا معطل اور بے کا رچھوڑ دیتے ہیں کہ گویا خدا نے ان کو وہ قو تیں عطا ہی نہیں کیں۔سو بالآخر عدم استعمال کے باعث سے وہ تمام قو تیں رفته رفته ضعیف بلکہ قریب قریب مفقود کے ہوتی جاتی ہیں اور انسانی سرشت بالکل منقلب ہو کر حیوانات سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔اور نفس انسانی کا عمدہ کمال کہ جو ترقی فی المعقولات ہے ناحق ضائع ہو جاتا ہے اور معرفت کا ملہ کے حاصل کرنے سے انسان رُک جاتا ہے اور جس حیات ابدی اور سعادت دائگی کے حصول کی انسان کو ضرورت ہے اس کے حصول سے الہامی کتابیں سدِ راہ ہو جاتی ہیں۔اما الجواب۔واضح ہو کہ ایسا سمجھنا کہ گویا خُدا کی سچی کتاب پر عمل کرنے سے قومی عقلیہ کو بالکل بے کار چھوڑا جاتا ہے اور گویا الہام اور عقل ایک دوسرے کی نفیض اور ضد ہیں کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں یہ برہمو لوگوں کی کمال درجہ کی بدنہمی اور بداندیشی اور ہٹ دھرمی ہے۔اور اس عجیب وہم کی عجیب طرح کی ترکیب ہے جس کے اجزاء میں سے کچھ تو جھوٹ اور کچھ تعصب اور کچھ جہالت ہے۔جھوٹ یہ کہ باوصف اس بات کے اُن کو بخوبی معلوم ہے کہ حقانی صداقتوں کی ترقی ہمیشہ انہیں لوگوں کے ذریعہ