حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 377

۳۷۷ ہے۔اس کو ازل سے یہ توفیق ہی نہیں دی گئی کہ لذیذ اور با شوکت کلام کر سکے اور یا چند گھنٹہ تک سلسلہ کلام کا سوالات کے جواب دینے میں جاری رکھ سکے اور وہ بہرہ بھی ہے ہر ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور وہ عاجز بھی ہے اپنے الہامات میں کوئی قدرت اور اعلیٰ درجہ کی غیب گوئی کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اور اُس کا گلا بھی بیٹھا ہوا ہے پر شوکت اور بلند آواز سے بول نہیں سکتا۔مخنتوں کی طرح اس کی آواز دھیمی ہے۔انہیں علامات سے شیطانی وحی کو شناخت کر لو گے۔لیکن خدا تعالیٰ گنگے اور بہرے اور عاجز کی طرح نہیں وہ سنتا ہے اور برابر جواب دیتا ہے۔اور اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت اور بلندی آواز ہوتی ہے۔اور کلام پر اثر اور لذیذ ہوتا ہے اور شیطان کا کلام دھیما اور زنانہ اور مشتبہ رنگ میں ہوتا اس میں ہیبت اور شوکت اور بلندی نہیں ہوتی۔اور نہ وہ بہت دیر تک چل سکتا ہے گویا جلدی تھک جاتا ہے اور اس میں بھی کمزوری اور بُزدلی ٹپکتی ہے۔مگر خدا کا کلام تھکنے والا نہیں ہوتا۔اور ہر ایک قسم کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور بڑے بڑے غیبی امور اور اقتداری وعدوں پر مشتمل ہوتا ہے اور خدائی جلال اور عظمت اور قدرت اور قدوسی کی اس سے بُو آتی ہے اور شیطان کے کلام میں یہ خاصیت نہیں ہوتی اور نیز خدا تعالیٰ کا کلام ایک قومی تاثیر اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک میخ فولادی کی طرح دل میں پھنس جاتا ہے اور دل پر ایک پاک اثر کرتا ہے اور دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور جس پر نازل ہوتا ہے اُس کو مرد میدان کر دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر اُس کو تیز تلوار کے ساتھ ٹکڑہ ٹکڑہ کر دیا جاوے یا اس کو پھانسی دیا جاوے یا ہر ایک قسم کا دُکھ جو دنیا میں ممکن ہے پہنچایا جاوے اور ہر ایک قسم کی بے عزتی اور توہین کی جائے یا آتش سوزاں میں بٹھایا جاوے یا جلایا جاوے وہ کبھی نہیں کہے گا کہ یہ خدا کا کلام نہیں جو میرے پر نازل ہوتا ہے کیونکہ خدا اس کو یقین کامل بخش دیتا ہے اور اپنے چہرہ کا عاشق کر دیتا ہے اور جان اور عزت اور مال اس کے نزدیک ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک تنکا۔وہ خدا کا دامن نہیں چھوڑتا اگر چہ تمام دنیا اس کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے اور توکل اور شجاعت اور استقامت میں بے مثل ہوتا ہے مگر شیطان سے الہام پانے والے یہ قوت نہیں پاتے وہ بُزدل ہوتے ہیں کیونکہ شیطان بزدل ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۲ تا ۱۴۴) اب اگر یہ سوال ہو کہ جبکہ شیطان کے دخل سے بکلی امن نہیں تو ہم کیونکہ اپنی خوابوں پر بھروسہ کر لیں کہ وہ رحمانی ہیں کیا ممکن نہیں کہ ایک خواب کو ہم رحمانی سمجھیں اور دراصل وہ شیطانی ہو اور یا شیطانی خیال کریں اور دراصل وہ رحمانی ہو تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ رحمانی خواب اپنی شوکت اور برکت اور