حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 376
کہ بعض ناپاک طبع انسان شیطانی الہام بھی پاتے ہیں یا حدیث النفس کے فریب میں آ جاتے ہیں۔اس لئے خدا نے اپنے کلام کے ساتھ چمکتے ہوئے انوار رکھے ہیں تا دونوں میں فرق ظاہر ہو۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۱۵،۳۱۴) اکثر نادان لوگ شیطانی القا کو بھی خدا کا کلام سمجھنے لگتے ہیں اور ان کو شیطانی اور رحمانی الہام میں تمیز نہیں۔پس یادر ہے کہ رحمانی الہام اور وحی کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اُس میں نہ رہے۔کیونکہ جہاں مُردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کتے بھی جمع ہو جائیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكِ اسم ہے مگر جس میں شیطان کا حصہ نہیں رہا۔اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دُور ہوا کہ گویا مرگیا اور راستباز وفادار بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آ گیا۔اس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن کے جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں انہی کی طرف شیطان دوڑتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں۔اور نیز یادر ہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذت اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور چونکہ خدا سمیع و علیم و رحیم ہے اس لئے وہ اپنے متقی اور راستباز اور وفادار بندوں کو اُن کے معروضات کا جواب دیتا ہے اور یہ سوال و جواب کئی گھنٹوں تک طول پکڑ سکتے ہیں۔جب بندہ عجز و نیاز کے رنگ میں ایک سوال کرتا ہے تو اس کے بعد چند منٹ تک اس پر ایک ربودگی طاری ہو کر اس ربودگی کے پردہ میں اس کو جواب مل جاتا ہے۔پھر بعد اس کے بندہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو پھر دیکھتے دیکھتے اس پر ایک اور ربودگی طاری ہو جاتی ہے اور بدستور اس کے پردہ میں جواب مل جاتا ہے اور خدا ایسا کریم اور رحیم اور حلیم ہے کہ اگر ہزار دفعہ بھی ایک بندہ کچھ سوالات کرے تو جواب مل جاتا ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز بھی ہے اور حکمت اور مصلحت کی بھی رعایت رکھتا ہے اس لئے بعض سوالات کے جواب میں اظہار مطلوب نہیں کیا جا تا اور اگر یہ پوچھا جاوے کہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ جوابات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے۔اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں۔ماسوا اس کے شیطان گنگا ہے۔اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گنگے کی طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا۔صرف ایک بد بو دار پیرایہ میں فقرہ دو فقرہ دل میں ڈال دیتا الشعراء : ٢٢٣،٢٢٢ الحجر :٤٣