حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 375

۳۷۵ ہی حلیم ہے جس کی طرف توجہ کرتا ہے اس سے مکالمت کرتا ہے اور سوالات کا جواب دیتا ہے اور ایک ہی مکان اور ایک ہی وقت میں انسان اپنے معروضات کا جواب پا سکتا ہے۔گو اس مکالمہ پر کبھی فترت کا زمانہ بھی آجاتا ہے۔(۸) بچے الہام کا انسان کبھی بزدل نہیں ہوتا اور کسی مدعی الہام کے مقابلہ سے اگر چہ وہ کیسا ہی مخالف ہو نہیں ڈرتا۔جانتا ہے کہ میرے ساتھ خدا ہے اور وہ اُس کو ذلت کے ساتھ شکست دے گا۔(۹) سچا الہام اکثر علوم اور معارف کے جانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ خدا اپنے مہم کو بے علم اور جاہل رکھنا نہیں چاہتا۔(۱۰) بچے الہام کے ساتھ اور بھی بہت سی برکتیں ہوتی ہیں اور کلیم اللہ کو غیب سے عزت دی جاتی ہے اور رعب عطا کیا جاتا ہے۔( ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ ۴۸ تا ۴۹۰) میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا مگر میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی اس بات کا گواہ ہوں کہ وہ خدا جو ہمیشہ پوشیدہ چلا آیا ہے وہ اسلام کی پیروی سے اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے۔اگر کوئی قرآن شریف کی سچی پیروی کرے اور کتاب اللہ کے منشاء کے موافق اپنی اصلاح کی طرف مشغول ہو اور اپنی زندگی نہ دنیا داروں کے رنگ میں بلکہ خادم دین کے طور پر بنا وے اور اپنے تئیں خدا کی راہ میں وقف کر دے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے اور اپنی خود نمائی اور تکبر اور تعجب سے پاک ہو اور خدا کے جلال اور عظمت کا ظہور چاہے نہ یہ کہ اپنا ظہور چاہے اور اس راہ میں خاک میں مل جائے تو آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ مکالمات الہیہ عربی فصیح بلیغ میں اس سے شروع ہو جاتے ہیں۔اور وہ کلام لذیذ اور با شوکت ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔حدیث النفس نہیں ہوتا۔حدیث النفس کا کلام آہستہ ہوتا ہے۔جیسا کہ ایک مخنث یا بیمار بولتا ہے۔مگر خدا کا کلام پُر شوکت ہوتا ہے اور اکثر عربی زبان میں ہوتا ہے۔بلکہ اکثر آیات قرآنی میں ہوتا ہے اور جو کچھ ہمارے تجربہ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اول دل پر اس کی سخت ضرب محسوس ہوتی ہے اور اس ضرب کے ساتھ ایک گونج پیدا ہوتی ہے اور پھر پھول کی طرح وہ شگفتہ ہو جاتا ہے۔اور اس سے پاک اور لذیذ کلام نکلتا ہے اور وہ کلام اکثر امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک شوکت اور طاقت اور تاثیر رکھتا ہے اور ایک آہنی میخ کی طرح دل میں ھنس جاتا ہے۔اور خدا کی خوشبو اس سے آتی ہے۔یہ تمام لوازم اس لئے اس کے ساتھ لگائے گئے ہیں