حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 374

۳۷۴ بلا ہو جاتی ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے دل ہونے کا کوئی محل نہیں۔دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے کہ ہر ایک عمدہ جوہر کے ساتھ مغشوش چیزیں بھی لگی ہوئی ہیں۔دیکھو ایک تو وہ موتی ہیں جو دریا سے نکلتے ہیں۔دوسرے وہ سستے موتی ہیں جو لوگ آپ بنا کر بیچتے ہیں۔اب اس خیال سے کہ دنیا میں جھوٹے موتی بھی ہیں سچے موتیوں کی خرید وفروخت بند نہیں ہوسکتی۔کیونکہ وہ جو ہری جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دی ہے ایک ہی نظر سے پہچان جاتے ہیں کہ یہ سچا اور یہ جھوٹا ہے۔سو الہامی جواہرات کا جو ہری امام الزمان ہوتا ہے۔اس کی صحبت میں رہ کر انسان جلد اصل اور مصنوعی میں فرق کر سکتا ہے۔اے صوفیو! اور اس مہوشی کے گرفتار و! ذرا ہوش سنبھال کر اس راہ میں قدم رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سچا الہام جو خالص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے مندرجہ ذیل علامتیں اپنے ساتھ رکھتا ہے:۔(۱) وہ اس حالت میں ہوتا ہے کہ جبکہ انسان کا دل آتش درد سے گداز ہو کر مصفا پانی کی طرح خدا تعالی کی طرف بہتا ہے۔اسی طرف حدیث کا اشارہ ہے کہ قرآن غم کی حالت میں نازل ہوا۔لہذا تم بھی اس کو غمناک دل کے ساتھ پڑھو۔(۲) سچا الہام اپنے ساتھ ایک لذت اور سرور کی خاصیت لاتا ہے اور نامعلوم وجہ سے یقین بخشتا ہے اور ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر جھنس جاتا ہے اور اُس کی عبارت فصیح اور غلطی سے پاک ہوتی ہے۔(۳) بچے الہام میں ایک شوکت اور بلندی ہوتی ہے اور دل پر اُس سے مضبوط ٹھوکر لگتی ہے۔اور قوت اور رعب ناک آواز کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے مگر جھوٹے الہام میں چوروں اور محنتوں اور عورتوں کی سی دھیمی آواز ہوتی ہے۔کیونکہ شیطان چور اور مخنث اور عورت ہے۔(۴) سچا الہام خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اثر اپنے اندر رکھتا ہے اور ضرور ہے کہ اُس میں پیشگوئیاں بھی ہوں اور وہ پوری بھی ہو جائیں۔(۵) سچا الہام انسان کو دن بدن نیک بناتا جاتا ہے اور اندرونی کثافتیں اور غلاظتیں پاک کرتا ہے اور اخلاقی حالتوں کو ترقی دیتا ہے۔(۶) بچے الہام پر انسان کی تمام اندرونی قوتیں گواہ ہو جاتی ہیں اور ہر ایک قوت پر ایک نئی اور پاک روشنی پڑتی ہے اور انسان اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے۔اور اس کی پہلی زندگی مرجاتی ہے اور نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔اور وہ بنی نوع کی ایک عام ہمدردی کا ذریعہ ہوتا ہے۔(۷) سچا الہام ایک ہی آواز پرختم نہیں ہوتا۔کیونکہ خدا کی آواز ایک سلسلہ رکھتی ہے۔وہ نہایت