حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 373

۳۷۳ کیا۔اس میں ان کی کوئی کسر شان نہیں۔کیا بادشاہوں کے حضور میں کبھی بدمعاش کلام نہیں کرتے؟ سوالیسا ہی روحانی طور سے شیطان نے یسوع کے دل میں اپنا کلام ڈالا۔یسوع نے اس شیطانی الہام کو قبول نہ کیا بلکہ رڈ کیا۔سو یہ تو قابل تعریف بات ہوئی اس سے کوئی نکتہ چینی کرنا حماقت اور روحانی فلاسفی کی بے خبری ہے لیکن جیسا کہ یسوع نے اپنے نور کے تازیانہ سے شیطانی خیال کو دفع کیا اور اس کے الہام کی پلیدی فی الفور ظاہر کر دی۔ہر ایک زاہد اور صوفی کا یہ کام نہیں۔سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔اب جو کچھ دوسروں پر حرام ہے تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے جو چاہے کر۔تب میں نے کہا کہ اے شیطان دُور ہو۔وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔تب شیطان مع اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا۔اب جبکہ سید عبدالقادر جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامۃ الناس جنہوں نے ابھی اپنا سلوک بھی تمام نہیں کیا وہ کیونکر اس سے بچ سکتے ہیں۔اور ان کو وہ نورانی آنکھیں کہاں حاصل ہیں تا سید عبد القادر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح شیطانی الہام کو شناخت کر لیں۔یادر ہے کہ وہ کا ہن جو عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بکثرت تھے۔ان لوگوں کو بکثرت شیطانی الہام ہوتے تھے اور بعض وقت وہ پیشگوئیاں بھی الہام کے ذریعہ سے کیا کرتے تھے۔اور تعجب یہ کہ اُن کی بعض پیشگوئیاں کچی بھی ہوتی تھیں چنانچہ اسلامی کتابیں ان قصوں سے بھری پڑی ہیں۔پس جو شخص شیطانی الہام کا منکر ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی تمام تعلیموں کا انکاری ہے اور نبوت کے تمام سلسلہ کا منکر ہے۔بائیل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا ایک بادشاہ کی فتح کی پیشگوئی کی۔آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اسی لڑائی میں مارا گیا۔اور بڑی شکست ہوئی۔اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل سے الہام ملا تھا اُس نے یہی خبر دی تھی کہ بادشاہ مارا جائے گا۔اور کتے اس کا گوشت کھائیں گے۔اور بڑی شکست ہو گی سو یہ خبر سچی نکلی مگر اس چارسو نبی کی پیشگوئی جھوٹھی ظاہر ہوئی۔اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ اس کثرت سے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں تو پھر الہام سے امان اٹھتا ہے اور کوئی الہام بھروسہ کے لائق نہیں ٹھہرتا کیونکہ احتمال ہے کہ شیطانی ہو۔خاص کر جبکہ مسیح جیسے اولی العزم نبی کو بھی یہی واقعہ پیش آیا تو پھر اس سے تو ملہموں کی کمر ٹوٹتی ہے۔تو الہام کیا ایک