حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 369

۳۶۹ دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نو ر بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔اور انبیاء جملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مبتسم ہو گئے ہیں۔اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے۔جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورُ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ لا الجزو نمبر 1 وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا کے نمبر ۲۲ یہی حکمت ہے کہ نور وحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور اُنہی سے مخصوص ہوا۔پس اب اس حجت موجہ سے کہ جو مثال مقدم الذکر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی بطلان ان لوگوں کے قول کا ظاہر ہے جنہوں نے باوصف اس کے کہ فطرتی تفاوت مراتب کے قائل ہیں۔پھر محض حمق و جہالت کی راہ سے یہ خیال کر لیا ہے کہ جونور افراد کامل الفطرت کو ملتا ہے وہی نور افراد نا قصہ کو بھی مل سکتا ہے۔ان کو دیانت اور انصاف سے سوچنا چاہئے کہ فیضانِ وحی کے بارہ میں کس قدر غلطی میں وہ مبتلا ہو رہے ہیں۔صریح دیکھتے ہیں کہ خدا کا قانونِ قدرت اُن کے خیال باطل کی تصدیق نہیں کرتا۔پھر شدّت تعصب وعناد سے اسی خیال فاسد پر جمے بیٹھے ہیں۔ایسا ہی عیسائی لوگ بھی نور کے فیضان کے لئے فطرتی نور کا شرط ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ جس دل پر نور وحی نازل ہو اس کے لئے اپنے کسی خاصہ اندرونی میں نورانیت کی حالت ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی بجائے عقل سلیم کے کمال درجہ کا نادان اور سفیہ ہو اور بجائے صفت شجاعت کے کمال درجہ کا بُز دل اور بجائے صفت سخاوت کے کمال درجہ کا بخیل اور بجائے صفت حمیت کے کمال درجہ کا بے غیرت اور بجائے صفت محبت الہیہ کے کمال درجہ کا محبت دنیا اور بجائے صفت زہد و ورع و امانت کے بڑا بھارا چور اور ڈاکو اور بجائے صفت عفت و حیا کے کمال درجہ کا بے شرم اور شہوت پرست اور بجائے صفتِ قناعت کے کمال درجہ کا حریص اور لالچی۔تو ایسا شخص بھی بقول حضرات عیسائیاں با وصف ایسی حالت خراب کے خدا کا نبی اور مقرب ہو سکتا ہے بلکہ ایک مسیح کو باہر نکال کر دوسرے تمام انبیاء جن کی نبوت کو بھی وہ مانتے ہیں اور ان کی الہامی کتابوں کو بھی مقدس مقدس کر کے پکارتے ہیں وہ نعوذ باللہ بقول اُن کے ایسے ہی تھے اور کمالات قدسیہ سے جو ستلزم عصمت و پاک دلی ہیں محروم تھے۔عیسائیوں کی عقل اور خداشناسی پر بھی ہزار المائدة : ١٦ الاحزاب : ۴۷